کیوبا سے ہالی وڈ تک: انا ڈی آرمس کے فلمی سفر کی ناقابلِ یقین کہانی

جدہ: ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ’’اِن کنورسیشن‘‘ سیشن کے دوران ہالی ووڈ اداکارہ انا ڈی آرمس نے کیانو ریوز کے ساتھ اپنی طویل دوستی اور ایکشن فلموں میں آنے کے غیر منصوبہ بند سفر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ کیریئر کا یہ راستہ سوچے سمجھے بغیر خود بنتا چلا گیا۔

انا ڈی آرمس نے بتایا کہ ان کیانیو ریوز سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ لاس اینجلس پہنچیں اور فلم نوک نوک میں کاسٹ ہوئیں۔ ان کے مطابق اُس وقت وہ انگریزی بہت کم جانتی تھیں، لیکن فلم نے نہ صرف انہیں اعتماد دیا بلکہ کیانو کے ساتھ ایک ’’خوبصورت دوستی‘‘ کی بنیاد بھی بنی۔

انہوں نے کیانو ریوز کو ’’انتہائی مہربان اور فیاض‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سال ریلیز ہونے والی بیلرینا—جو جان وِک اسپن آف ہے—میں دوبارہ ان کے ساتھ کام کرنا ’’ایک مکمل دائرہ مکمل ہونے جیسا‘‘ لگا۔

ٹریننگ بہت مشکل تھی

اپنی ایکشن فلموں کے بارے میں انا ڈی آرمس نے کہا کہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اس طرز کے کردار کریں گی۔ تاہم نو ٹائم ٹو ڈائی، دی گرے مین، گوسٹڈ اور بیلرینا جیسے پروجیکٹس نے انہیں سخت جسمانی تربیت سے گزارا۔ ان کے مطابق ’’ٹریننگ بہت مشکل تھی‘‘ اور مہینوں تک جاری رہی۔

اداکارہ نے بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ کیوبا میں ان کی زندگی ’’بہت آزاد اور سماجی‘‘ تھی۔ بعد میں انہوں نے 18 سال کی عمر میں محدود وسائل کے ساتھ میڈرڈ کا رخ کیا، جہاں ایک مقبول سیریز میں کردار نے انہیں شہرت دلائی، لیکن ایک ہی قسم کے کردار ملنے لگے تو وہ فوراً لاس اینجلس منتقل ہو گئیں۔

انہوں نے بلیڈ رنر 2049 کو اپنے کیریئر کا اہم موڑ قرار دیا اور کہا کہ فلم بلونڈ نے ان کے اداکاری کے انداز کو مزید گہرا کیا۔ انا ڈی آرمس کے مطابق وہ اب بھی ایسے کرداروں کی تلاش میں ہیں جو انہیں چیلنج دیں اور انہیں ایک ہی طرز کے رولز تک محدود نہ کر دیں۔

مزید پڑھیں: شوبز کی تازہ ترین خبریں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top