ٹیکنالوجی کی دنیا میں شدید مقابلے کے باوجود، ایپل ایک بار پھر بازی لے جانے کے قریب نظر آ رہا ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی دوڑ میں بظاہر پیچھے رہ جانے کے الزام کے بعد اب کمپنی تیزی سے سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کر رہی ہے۔ صرف اگست سے اب تک ایپل کے شیئرز میں 39 فیصد اضافہ ہوا اور اسٹاک نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
ایپل انٹیلیجنس کی متعارف کرائی گئی اپ ڈیٹس ابتدا میں ناکام رہی تھیں، جن میں سب سے اہم نئی سِری تھی جو جدید چیٹ جی پی ٹی اور گوگل جیمنی جیسے AI چیٹ بوٹس کے مقابل لائی جا رہی تھی۔ صارفین برسوں سے ایک زیادہ سمجھ دار اور اسمارٹ سِری کے انتظار میں ہیں، لیکن یہ فیچر تاخیر کا شکار ہے۔
تاخیر کی بڑی وجہ ایپل کی سخت پرائیویسی پالیسی ہے۔ کمپنی چاہتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ AI پراسیسنگ فون میں ہی ہو، تاکہ ڈیٹا کہیں اور نہ جائے۔ لیکن جدید ترین AI ماڈلز اتنے بڑے ہیں کہ وہ صرف بڑے ڈیٹا سینٹرز میں چل سکتے ہیں۔ دوسری طرف، مختصر ماڈلز ابھی اس قابل نہیں کہ وہ ایپل کے معیار کے مطابق بہتر صارف تجربہ دے سکیں۔
مالیاتی اشاریے دباؤ کا شکار
اسی دوران وال اسٹریٹ کا مؤقف بدل رہا ہے۔ سرمایہ کار اب سمجھ چکے ہیں کہ AI میں دیر سے آنا ایپل کیلئے نقصان دہ نہیں، کیونکہ کمپنی تیزی کے بجائے درست حکمتِ عملی سے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ اس کے برعکس، دیگر بڑی ٹیک کمپنیاں AI ڈیٹا سینٹرز پر کھربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں، جس سے ان کے مالیاتی اشاریے دباؤ کا شکار ہیں۔ صرف میٹا اس سال تقریباً 70 ارب ڈالر AI پر لگا رہی ہے۔
ایپل نے اس دوڑ میں ایک مختلف راستہ اپنایا ہے۔ کمپنی نے اپنا پرائیویٹ کلاؤڈ کمپیوٹ سسٹم تیار کیا ہے، جو ایپل کے ہی تیار کردہ سرورز، چپس اور اوپن سورس سافٹ ویئر پر مشتمل ہے، تاکہ AI چیٹس بھی مکمل طور پر محفوظ رہیں۔
بڑی کمپنیاں جیسے گوگل، مائیکروسافٹ اور میٹا اپنی کمائی کا بڑا حصہ ڈیٹا سینٹرز پر لگا رہی ہیں، جب کہ ایپل کے کیپٹل اخراجات بہت محدود اور متوازن ہیں۔ ایپل کے اخراجات میں صرف 7 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ گوگل میں 41 فیصد، مائیکروسافٹ میں 93 فیصد اور میٹا میں 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
آئی فون 17 کی فروخت میں بہتری
دوسری طرف آئی فون 17 کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کی فروخت گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں بہتر جا رہی ہے۔ ایپل کی سروسز کی آمدن بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جب کہ کمپنی شیئر بائی بیک پروگرام کے تحت اب تک تقریباً ایک کھرب ڈالر سے زائد واپس کر چکی ہے۔
بڑا سوال یہ ہے کہ کیا صارفین فون خریدتے وقت واقعی AI فیچرز کو اہمیت دیتے ہیں؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کل لوگ نیا فون اُس وقت لیتے ہیں جب انہیں ضرورت پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ آئی فون 16 کی زبردست مارکیٹنگ کے باوجود، فروخت اتنی غیر معمولی نہیں تھی۔ لیکن آئی فون 17، جو ڈیزائن اور کیمرہ پر زیادہ فوکس کرتا ہے، کہیں بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔
ایپل کے پاس وقت ہے، اور وہ جلد بازی کے بجائے درست فیصلے پر یقین رکھتا ہے۔ سرمایہ کاروں کیلئے یہی پالیسی طویل مدت میں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔








