اسلام آباد : برادر اسلامی ملک ترکیہ نے پاکستان میں جنگی ڈرون فیکٹری قائم کرنے کی تیاریاں مکمل کر لیں، ففتھ جنریشن لڑاکا طیارے اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے منصوبے میں پاکستان کے ساتھ شراکت داری کر رہا ہے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کی دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا اور پاکستان کو جدید اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس کرے گا۔
بین الاقوامی جریدے بلومبرگ کے مطابق ترکیہ پاکستان میں ڈرون فیکٹری بنائے گا اور پاکستان کو اپنے ففتھ جنریشن لڑاکا طیاروں کے پروگرام میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
منصوبے کے تحت اسٹیلتھ اور طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے ڈرون کے پرزے پاکستان برآمد کیے جائیں گے، جہاں انہیں اسمبل کیا جائے گا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترکیہ مشترکہ پیداوار کے معاہدے کے تحت پاکستانی بحریہ کے لیے جنگی جہازوں کی تیاری میں بھی شریک ہے۔
ترکیہ نے پاکستان کے کئی ایف-16 طیاروں کو اپ گریڈ کیا ہے اور اس کی دفاعی برآمدات رواں سال 11 ماہ میں 30 فیصد اضافہ کر کے 7.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔
ترک ایرو اسپیس انڈسٹریز نے 2019 میں پاکستان میں اپنا پہلا دفتر قائم کیا۔ ترکیہ پاکستان کو ATA کے 30 اور W-129 ہیلی کاپٹرز فراہم کرنے کے لیے 1.5 ارب ڈالر کے اہم معاہدے میں شریک ہے۔ یہ منصوبے پاک فوج کی صلاحیت اور دونوں ممالک کی قابل اعتماد دفاعی شراکت داری کا ثبوت ہیں۔








