پشاور : وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ نظام چلانے نہیں بلکہ بدلنے آئے ہیں، ان کی حکومت کی ترجیح گورننس، امن و امان اور انصاف کا قیام ہے۔ وہ صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کر رہے تھے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت آئین و قانون کے مطابق کام کرے گی، انصاف کے لیے آئینی راستے اپنا رہے ہیں، احتجاج سب کا حق ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ کے لیے وہ اپنے لوگوں سے مشاورت کریں گے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے کو این ایف سی ایوارڈ، قبائلی فنڈز اور این ایچ کے حوالے سے کوئی حصہ نہیں ملا، علی امین کو بھی اجلاس میں بلاتے تھے، مگر ہمیں کچھ نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ وفاق کو صوبے کے مالی و ترقیاتی حقوق تسلیم کرنا ہوں گے۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ان کا ون پوائنٹ ایجنڈا حقیقی آزادی ہے، آئین و قانون کی آزادی ہوگی۔
عمران خان کی رہائی کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ آئین و قانون کے تحت جو ممکن ہوگا، وہ ضرور کروں گا سکیورٹی کی صورتحال پر انہوں نے کہا کہ آپریشنز بہت ہوئے، مگر اب بھی نقصان ہو رہا ہے، افغانستان پالیسی کے حوالے سے وفاق کو خیبر پختونخوا کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جو جو دھاندلی میں ملوث ہے، اسے اس کی سزا ضرور ملنی چاہیے وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ انہیں کسی ایڈوائزری کونسل کی ضرورت نہیں، نہ پارٹی میں اس پر کوئی بات ہوئی، میں صرف عمران خان کو جواب دہ ہوں ۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ کارکن ہونے کے ناطے سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں، ہم سب کو ایک ٹیم بن کر صوبے کے مسائل حل کرنے ہیں، حقیقی آزادی کا مقصد عوامی خود مختاری اور انصاف پر مبنی نظام ہے۔








