پنجاب میں طلاق کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ، لاہور سرفہرست

پنجاب میں طلاق کیسز ایک بار پھر تشویشناک حد تک بڑھ گئے ہیں، اور صرف ایک سال کے دوران پونے دو لاکھ سے زائد طلاق کے سرٹیفکیٹس جاری ہونے نے سماجی ماہرین اور حکومتی اداروں کو فکر میں ڈال دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں طلاق کی شرح مسلسل اوپر جا رہی ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں بھی یہ رجحان تیزی سے پھیل رہا ہے، جو گھریلو ماحول، معاشی دباؤ اور خاندانی ڈھانچے میں بدلتی ترجیحات کی نشاندہی کرتا ہے۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق، صوبے میں لاہور اس فہرست میں سب سے آگے رہا، جہاں 21 ہزار سے زائد طلاق اور خلع کے سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔ شہری آبادی کے بڑے حجم اور بدلتے سماجی رویّوں نے اس اضافے کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔

اسی طرح فیصل آباد میں 14 ہزار سے زائد، شیخوپورہ میں 11 ہزار سے زیادہ اور راولپنڈی میں 10 ہزار سے زائد کیسز رجسٹرڈ ہوئے۔
سرکاری دستاویزات بتاتی ہیں کہ گوجرانوالہ، گجرات اور سیالکوٹ کے اضلاع میں بھی 8 ہزار سے زائد جوڑوں نے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔

قصور میں 5 ہزار سے زیادہ، جبکہ ساہیوال اور اوکاڑہ میں 4 ہزار سے زائد طلاق کے سرٹیفکیٹس جاری ہوئے۔
مزید یہ کہ خانیوال، منڈی بہاؤالدین، وہاڑی، ننکانہ صاحب اور خوشاب میں بھی ہزاروں کی تعداد میں علیحدگی کے کیسز رپورٹ ہوئے، جس نے تمام اضلاع میں ایک تشویشناک تصویر واضح کر دی۔

چنیوٹ، بھکر اور مظفرگڑھ میں بھی سینکڑوں جوڑوں نے رشتوں کے خاتمے کا راستہ اختیار کیا۔
اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ نہ صرف شہری بلکہ دیہی علاقوں میں بھی طلاق کی شرح سال بہ سال بڑھ رہی ہے، اور ماہرین اس رجحان کو سماجی رویّوں میں تبدیلی، بڑھتے معاشی بوجھ اور خاندانی نظام کے بدلتے ڈھانچے سے جوڑ رہے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top