آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ کیٹ ونسلیٹ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہیں ہالی وڈ اور سوشل میڈیا پر بدلتے ہوئے خوبصورتی کے معیار پر گہری تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ کسی لڑکی کو بوٹوکس یا ہونٹوں میں فِلرز لگوانے کیلئے پیسے جمع کرتے دیکھیں تو انہیں شدید تکلیف ہوتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے اپنے چہرے پر “کوئی انجیکشن یا کوئی کام” نہیں کروایا۔ اداکارہ کے مطابق، قدرتی بڑھاپا زندگی کی خوبصورتی ہے، خصوصاً جب ہاتھ عمر کی کہانی بیان کرتے ہیں۔
کیٹ ونسلیٹ کا کہنا تھا کہ اب نوجوانوں کو اصل خوبصورتی کی سمجھ ہی نہیں رہی، کیونکہ وہ نام نہاد پرفیکشن کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی اصل صورت سے خوفزدہ ہیں اور خود کو بدلنے میں لگے رہتے ہیں۔
اداکارہ نے سوشل میڈیا کو نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ اور کمزور خود اعتمادی کا ذمہ دار قرار دیا۔ ان کے مطابق، جب انسان کی خود توقیری صرف ظاہری شکل پر منحصر ہو جائے تو یہ صورتحال خوفناک بن جاتی ہے۔
اداکارائیں مصنوعی طریقوں سے خود کو بدلنے میں لگی رہتی ہیں
کیٹ ونسلیٹ نے اپنی ہم عمر اداکاراؤں، جن میں ہیلن میرین بھی شامل ہیں، کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کچھ خواتین اپنی حقیقت پر قائم رہتی ہیں جبکہ کچھ مصنوعی طریقوں سے خود کو بدلنے میں لگی رہتی ہیں۔
آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ پلاسٹک سرجری اور انجیکشنز کے ذریعے “نامعلوم چیزیں” جسم میں داخل کرنا صحت کے لیے خطرناک ہے۔ ان کے بقول، “یہ سب ایک نہ ختم ہونے والا انتشار ہے، اور پہلے سے زیادہ خوفناک ہوتا جا رہا ہے۔”








