نئی دہلی : بھارت کی حالیہ اشتعال انگیزی اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے اثرات کرکٹ کے سب سے بڑے تجارتی ایونٹ پر بھی نمایاں ہو گئے ہیں، جہاں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کو اربوں ڈالرز کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے اور لیگ کی مجموعی کمرشل قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
عالمی مالیاتی اعداد و شمار کا جائزہ لینے والی معروف فرمز برانڈ فنانس اور دی اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں آئی پی ایل کی مجموعی کمرشل ویلیو 20 فیصد کم ہو کر 9.6 ارب ڈالر رہ گئی، جو 2024 میں 12 ارب ڈالر تھی۔ رپورٹ میں اس کمی کی بنیادی وجوہات خطے کی جیو پولیٹیکل کشیدگی اور آئندہ بڑی نیلامی سے جڑی بے یقینی کو قرار دیا گیا ہے۔
برانڈ فنانس کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے باعث تنازع کے دوران آئی پی ایل کے میچز، جن میں ناک آؤٹ مرحلہ بھی شامل تھا، تقریباً ایک ہفتے تک معطل رہے۔ اس دوران لگ بھگ 16 میچز مؤخر ہوئے، جس سے لیگ کی رفتار، مارکیٹ اعتماد اور کمرشل تسلسل متاثر ہوا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس عارضی تعطل نے نشریاتی اعتماد، اشتہاری نمائش اور مجموعی کمرشل مومینٹم کو شدید دھچکا پہنچایا۔ اس کے ساتھ ہی آن لائن حقیقی رقم والے گیمنگ اشتہارات پر پابندی کو بھی بڑا دباؤ قرار دیا گیا، کیونکہ آئی پی ایل کی ایک بڑی اشتہاری کیٹیگری مارکیٹ سے باہر ہو گئی۔
10 میں سے 9 ٹیموں کی برانڈ ویلیو میں کمی ہوئی
پی ایس ایل کے دسویں ایڈیشن کے ساتھ شیڈولنگ تصادم، آئندہ بڑی نیلامی کی غیر یقینی صورتحال اور کرپٹو کرنسی سے وابستہ اشتہاری و مالی شراکت داروں کے انخلاء نے بھی لیگ کے استحکام کو متاثر کیا۔
اسی تناظر میں ڈی اینڈ پی ایڈوائزری کی اکتوبر رپورٹ میں آئی پی ایل کی ویلیو میں مسلسل دو سالہ گراوٹ ظاہر کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق لیگ کی قدر 2023 میں 92,500 کروڑ روپے، 2024 میں 82,700 کروڑ روپے اور 2025 میں 76,100 کروڑ روپے ریکارڈ کی گئی۔
ڈی اینڈ پی ایڈوائزری نے میڈیا انڈسٹری میں بڑھتی یکجائی اور حقیقی رقم والے گیمنگ اسپانسرشپ پر حکومتی پابندی کو ساختی تبدیلیاں قرار دیا، جنہوں نے طویل المدتی رفتار کو متاثر کیا۔
فرنچائز سطح پر بھی صورتحال تشویشناک رہی، جہاں 10 میں سے 9 ٹیموں کی برانڈ ویلیو میں کمی رپورٹ ہوئی۔ ممبئی انڈینز 108 ملین ڈالر کے ساتھ بدستور سب سے قیمتی ٹیم رہی، تاہم اس کی قدر میں تقریباً 9 فیصد کمی دیکھی گئی۔
رائل چیلنجرز بنگلورو 105 ملین ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، مگر اس کی برانڈ ویلیو میں بھی 10 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔ چنئی سپر کنگز کی برانڈ ویلیو 24 فیصد کم ہو کر 93 ملین ڈالر جبکہ کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی ویلیو 33 فیصد کمی کے بعد 73 ملین ڈالر رہ گئی۔
ممبئی انڈینز نے سب سے قیمتی برانڈ کی پوزیشن برقرار رکھی
سن رائزرز حیدرآباد میں 34 فیصد اور راجستھان رائلز میں 35 فیصد تک کمی رپورٹ ہوئی، جبکہ گجرات ٹائٹنز واحد ٹیم رہی جس کی برانڈ ویلیو میں 2 فیصد اضافہ ہوا اور وہ 70 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق چنئی سپر کنگز برانڈ اسٹرینتھ کے لحاظ سے مضبوط ترین ٹیم رہی، جبکہ مجموعی طور پر ممبئی انڈینز نے سب سے قیمتی برانڈ کی پوزیشن برقرار رکھی۔ مجموعی جائزے میں کہا گیا ہے کہ علاقائی کشیدگی سے پیدا ہونے والا تعطل اور نیلامی سے جڑی بے یقینی نے فوری دباؤ ڈالا، جبکہ ساختی عوامل نے آئی پی ایل کی طویل المدتی تجارتی رفتار کو سست کر دیا۔







