سموگ کے خلاف مزاحم آلو کی اقسام تیار، پاکستانی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت بدلتے موسمی حالات، بڑھتی سموگ اور دھند نے پنجاب میں آلو کی فصل کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پوٹیٹو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (پی آر آئی) ساہیوال کے سائنسدان ایسی آلو کی اقسام تیار کرنے میں مصروف ہیں جو سموگ اور دھند جیسے موسمی اثرات کو بہتر انداز میں برداشت کر سکیں اور پیداوار کو برقرار رکھ سکیں۔
محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق صوبے میں تقریباً دس لاکھ ایکڑ رقبے پر آلو کاشت کیا جاتا ہے، جہاں سے سالانہ اوسط پیداوار نو ملین ٹن کے قریب ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں سموگ، درجہ حرارت میں اضافہ، بارشوں کے بدلتے انداز اور پانی کی کمی کے باعث آلو کی فصل کی مجموعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔
سموگ اور دھند آلو کی فصل کیلئے کیوں خطرناک ہیں؟
پی آر آئی ساہیوال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید اعجاز الحسن کے مطابق سموگ اور پالا آلو کی نشوونما کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ سموگ ضیائی تالیف کے عمل کو متاثر کرتی ہے، بلائٹ جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ کو بڑھاتی ہے اور آلو کی گانٹھوں کے معیار کو کم کر دیتی ہے۔
ان کے مطابق آلو کی فصل کو متاثر کرنے والی دیگر بیماریوں میں پوٹیٹو لیف رول وائرس، پوٹیٹو وائرس وائی، موزیک وائرس، ابتدائی بلائٹ، بران لیف اسپاٹ، رائزوکٹونیا، کامن اسکیب اور بلیک لیگ شامل ہیں۔
پی آر آئی کی تیار کردہ آلو کی اقسام
ڈاکٹر اعجاز الحسن نے بتایا کہ پوٹیٹو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اب تک دھند برداشت کرنے والی اور زیادہ پیداوار دینے والی آلو کی 12 اقسام تیار کر چکا ہے، جبکہ اب تحقیق کا مرکز سموگ برداشت کرنے والی اقسام ہیں۔
مقامی طور پر تیار کردہ اقسام میں پی آر آئی ریڈ، روبی، صدف، ساہیوال ریڈ، ساہیوال وائٹ، راوی، پنجاب، ستلج، کشمیر، سیالکوٹ ریڈ، اعجاز۔22 اور کاسمو شامل ہیں۔ ان میں اعجاز۔22 کو خاص طور پر سموگ سے متاثرہ علاقوں کیلئے مؤثر قرار دیا گیا ہے۔
درآمدی بیج اور کاشتکاروں کے مسائل
کاشتکار بڑی حد تک درآمدی بیج پر انحصار کرتے ہیں، جن میں کانسٹینس، کوروڈا، ایس می، روڈولف، الویٹ، ایمانیوئل، فیبیولا، فیلزینا، فرانسی لائن، فریشیا، سبابا، ڈیزائری، کارڈینل اور ڈائمنٹ شامل ہیں۔
پی آر آئی کے مطابق اس سال 60 ہزار کلوگرام آلو کا بیج تیار کیا گیا، جس میں سے 4 ہزار 550 کلوگرام کاشتکاروں میں تقسیم ہوا، تاہم معیاری مقامی بیج کی کمی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
برآمدات، ذخیرہ اور ویلیو ایڈیشن
آلو کے کاشتکاروں کی کوآپریٹو سوسائٹی کے نائب چیئرمین چوہدری مقصود احمد جٹ کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کی معطلی سے آلو کی برآمدات متاثر ہوئیں۔ اس وقت کولڈ اسٹوریجز آلو سے بھرے ہیں جبکہ نئی فصل بھی منڈی میں آ چکی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کم از کم 37 ممالک کو آلو برآمد کر سکتا ہے اور جنوری سے اپریل کے دوران چین ایک بڑی منڈی بن سکتا ہے۔ ویلیو ایڈیشن، جیسے آلو پاؤڈر، نشاستہ اور چپس کی برآمد، اضافی پیداوار سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔









