گلگت بلتستان کی پرسکون وادی ہنزہ ایک بار پھر خطرے کی زد میں آگئی۔ اُلتر گلیشیئر کا بڑا حصہ اچانک ٹوٹنے سے وادی میں غیرمعمولی صورتحال پیدا ہوگئی، جسے ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی کا واضح اثر قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ہنزہ میں اُلتر گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹنے کے بعد برفانی تودہ وادی میں پھیل گیا، جس کے باعث روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ تیز ہواؤں اور بدلتے موسم نے علاقے میں خطرات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
یہ گلیشیئر ہنزہ کے درجنوں بڑے گلیشیئرز میں سے ایک ہے، لیکن نومبر میں اس کا ٹوٹ جانا انتہائی غیرمعمولی واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر ہنزہ میں برفانی تودے مارچ یا اپریل میں گرتے ہیں، مگر سردیوں کے آغاز میں ہی تودے کا گرنا موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی واضح مثال ہے۔ ان کے مطابق پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جو آب و ہوا کی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
ادھر این ڈی ایم اے نے بھی تشویشناک پیشگوئی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مون سون سیزن 2026 رواں سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔ ادارے کے مطابق اگلے مون سون میں بارشیں 26 فیصد زیادہ متوقع ہیں، اس لیے پیشگی حفاظتی اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔








