ایران میں خراب معاشی صورتحال کے خلاف شروع ہونے والا عوامی احتجاج نویں روز میں داخل ہو گیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران میں ممکنہ امریکی مداخلت کی دھمکی دے دی ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز کے مطابق تہران اور جنوب مغربی شہر یاسوج سمیت مختلف علاقوں میں مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایران کے 31 میں سے 26 صوبوں میں احتجاج ہوا، جس کے نتیجے میں اب تک 19 مظاہرین اور ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر مزید مظاہرین مارے گئے تو ایران کو ’’بہت سخت ردعمل‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ماضی کی طرح مظاہرین کے قتل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کے بیان نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی نے کہا ہے کہ حکومت ان مظاہرین کی بات سنے گی جن کے معاشی اور سماجی تحفظات جائز ہیں، تاہم ریاستی سلامتی کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ’’فساد پھیلانے والوں کے لیے کوئی نرمی نہیں ہوگی۔‘‘
ایرانی وزارت خارجہ کا اسرائیل پر اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام
ایران کی وزارت خارجہ نے اسرائیل پر بھی الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ترجمان اسماعیل بقائی نے اسرائیلی وزیراعظم کے بیانات کو تشدد پر اکسانے کے مترادف قرار دیا۔
واضح رہے کہ حالیہ مظاہرے 28 دسمبر کو تہران میں دکانداروں کے احتجاج سے شروع ہوئے، جو ایرانی کرنسی ریال کی تاریخی گراوٹ اور 40 فیصد مہنگائی کے خلاف تھے۔ بعد ازاں طلبہ بھی احتجاج میں شامل ہو گئے اور مظاہرے ملک بھر میں پھیل گئے۔ یہ احتجاج 2022 میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ہونے والی ملک گیر تحریک کے بعد سب سے بڑے مظاہرے قرار دیے جا رہے ہیں۔








