ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پنجاب میں اقتصادی اور سماجی ترقی کو تیز کرنے کے لیے 381 ملین ڈالر مالیت کے تین اہم منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد صوبے میں زراعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے، جو پاکستان کی آبادی اور معاشی سرگرمیوں کا بڑا مرکز ہے۔ پریس ریلیز کے مطابق اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فین نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری پنجاب کی ترقی کو نئی سمت دے گی، خاص طور پر اس شعبے میں جہاں بہتری کی بڑی گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے انسانی وسائل کی بہتری، زرعی مشینری کی جدید کاری اور صوبے بھر میں زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔ پنجاب کلائمیٹ ریزیلینٹ اینڈ لو کاربن ایگریکلچر میکنائزیشن پراجیکٹ کے لیے 120 ملین ڈالر کا رعایتی قرض اور 4 ملین ڈالر گرانٹ مختص کی گئی ہے، جس کا مقصد صوبے کو قدرتی آفات سے محفوظ اور کم کاربن اخراج والی جدید زراعت کی طرف منتقل کرنا ہے۔ اس منصوبے سے 2 لاکھ 20 ہزار دیہی کسان خاندان فائدہ اٹھائیں گے۔
15 ہزار خواتین کے لیے ہنرکے مواقع
پراجیکٹ سے کاشتکاری میں بہتری کے ساتھ چھوٹے کسانوں کے لیے نیا فنانسنگ ماڈل بھی متعارف کرایا جائے گا، جو جدید مشینری فراہم کرنے میں مدد دے گا۔ منصوبے میں 15 ہزار خواتین کے لیے ہنر اور علم میں اضافہ بھی شامل ہے۔ پنجاب چاول، گندم اور مکئی کی قومی پیداوار کا بڑا حصہ فراہم کرتا ہے، تاہم پرانی مشینری اور فصلوں کی باقیات جلانے کا رجحان نہ صرف پیداوار متاثر کرتا ہے بلکہ فضائی آلودگی اور صحت کے مسائل بھی بڑھاتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت جدید زرعی مشینری کو فروغ دیا جائے گا۔
اے ڈی بی نے پنجاب میں ’’ریسپانسیو، ریڈی اینڈ ریزیلینٹ ایس ٹی ای ایم سیکنڈری ایجوکیشن پروگرام‘‘ کے لیے 107 ملین ڈالر بھی منظور کیے ہیں، جن میں 7 ملین ڈالر گرانٹ شامل ہے۔ اس پروگرام کا مقصد صوبے بھر میں معیاری اور جامع ثانوی تعلیم کو بہتر بنانا ہے۔ پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی زیر نگرانی یہ پروگرام طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات اور جدید سیکھنے کے مواقع فراہم کرے گا۔
نرسنگ اور صحت کے لیے 150 ملین ڈالر کا قرضہ بھی منظور
اسی طرح نرسنگ اور صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے 150 ملین ڈالر کا رعایتی قرضہ بھی منظور کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد نرسنگ تعلیم کی جدید کاری، آفات سے محفوظ تربیتی سہولیات کی فراہمی اور صحت کے شعبے کی افرادی قوت کو بہتر حکمت عملی کے مطابق تیار کرنا ہے۔ پاکستان میں نرسنگ اسٹاف کی شدید کمی کے باعث یہ پروگرام انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
پراجیکٹ کے تحت لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں سینٹرز آف ایکسیلنس قائم کیے جائیں گے، جہاں جدید سمیلیشن لیبارٹریز، ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارمز اور صنف دوست ہاسٹلز تعمیر کیے جائیں گے۔ یہ مراکز نہ صرف مقامی ضروریات پوری کریں گے بلکہ بین الاقوامی سطح پر تربیت یافتہ نرسنگ اسٹاف کی بڑھتی ہوئی طلب بھی پوری کرنے میں مدد دیں گے۔








