برف کے دیس میں مچھر کی انٹری — کلائمیٹ چینج کا نیا ثبوت!

آئس لینڈ میں پہلی مرتبہ مچھروں کی موجودگی سرکاری طور پر ریکارڈ کی گئی ہے۔ 21 اکتوبر 2025 کو کجوس کے علاقے کیدافیَل میں تین مچھر — دو مادہ اور ایک نر — دریافت کیے گئے۔

ماہرین کے مطابق یہ مچھر سرد موسم برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یورپ و شمالی افریقہ میں عام پائے جاتے ہیں ۔ سائنس دانوں نے اس غیر معمولی دریافت کو موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آئس لینڈ اس وقت شمالی نصف کرے کے مقابلے میں تقریباً چار گنا تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔ رواں سال درجہ حرارت نے کئی ریکارڈ توڑے — مئی میں مسلسل 10 دن درجہ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر رہا، جب کہ ایگلسستادیر ایئرپورٹ پر درجہ حرارت 26.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مچھر آئندہ سردیوں میں زندہ رہنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ آئس لینڈ میں مستقل طور پر بسنے لگیں گے۔ یہ نسل سردی برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ کھیتوں، اصطبلوں یا تہہ خانوں میں چھپنے اور پانی بھرے برتنوں میں انڈے دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تحقیقات کے مطابق ممکنہ طور پر یہ مچھر بحری جہازوں یا کارگو کے ذریعے ملک میں داخل ہوئے۔ ماہرین نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ بہار میں نگرانی جاری رکھی جائے گی تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا مچھر دوبارہ نمودار ہوتے ہیں یا نہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top