پاکستان میں سموگ کا بحران

دھند یا زہر؟ پاکستان میں سموگ کا بڑھتا بحران

تحریر: مراد خان

پاکستان کے آسمان پر چھائی ہوئی زہریلی دھند اب محض ایک موسمی مظہر نہیں رہی، بلکہ یہ ایک قومی المیہ بن چکی ہے۔ اکتوبر سے فروری تک جب پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقے گاڑھے دھوئیں میں لپٹ جاتے ہیں، تو یہ صرف موسم کی تبدیلی نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی طرزِ زندگی اور حکومتی ترجیحات کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور شیخوپورہ جیسے صنعتی شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہو رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں فضائی آلودگی سے ہر سال ہزاروں اموات ریکارڈ ہوتی ہیں۔

سموگ ، فضا کا قاتل امتزاج

سموگ دو الفاظ سموک اور فوگ کا مجموعہ ہے، یہ دھواں، گرد، صنعتی اخراج، گاڑیوں سے نکلنے والی کاربن، اورفصلوں کے جلانے سے بننے والی آلودگی کا زہریلا امتزاج ہے۔ جب یہ فضا میں معلق ہو جاتا ہے تو سورج کی شعاعوں کو روک دیتا ہے، سانس لینے کو دشوار بناتا ہے اور انسانی صحت پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔

پاکستان میں فضائی آلودگی کی بڑی وجوہات میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، پرانی گاڑیوں کا استعمال، ناقص ایندھن، غیر قانونی بھٹے، صنعتوں کا بے قابو پھیلاؤ اور ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کی کمی شامل ہیں۔

سڑکوں پر دوڑتی آلودگی

پاکستان میں ٹریفک کی آلودگی ایک بڑا ماحولیاتی چیلنج ہے۔ پنجاب اور کراچی جیسے شہروں میں لاکھوں پرانی گاڑیاں بغیر دھوئیں کے معیار کی جانچ کے سڑکوں پر رواں دواں ہیں۔ ناقص معیار کا پٹرول اور ڈیزل، کثیر تعداد میں موٹر سائیکلیں اور ناکارہ پبلک ٹرانسپورٹ نظام نے آلودگی کو خطرناک سطح تک پہنچا دیا ہے۔

حکومتِ پاکستان نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے Euro-II اور Euro-IV ایندھن معیار متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، ساتھ ہی الیکٹرک وہیکل پالیسی (EV Policy) پر بھی عمل درآمد شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت اگلے چند سالوں میں ہزاروں الیکٹرک گاڑیاں سڑکوں پر لانے کا منصوبہ ہے۔ تاہم، عملی نفاذ کی رفتار سست ہے۔

صنعتوں اور بھٹوں کا دھواں

پاکستان کی صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحول کا بوجھ بھی بڑھا ہے۔ لاہور، فیصل آباد اور گوجرانوالہ کے صنعتی علاقوں میں متعدد فیکٹریاں اب بھی پرانے کوئلے کے بوائلرز استعمال کر رہی ہیں، جو فضا میں زہریلے دھوئیں کے بادل چھوڑتی ہیں۔

پنجاب حکومت نے حالیہ برسوں میں اینٹوں کے بھٹوں کو “زگ زیگ ٹیکنالوجی” میں تبدیل کرنے کا حکم دیا، جس سے آلودگی میں 40 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔ لیکن ملک کے بیشتر حصوں میں اب بھی پرانے انداز کے بھٹے چل رہے ہیں۔

فصلوں کی باقیات جلانے کا مسئلہ

سموگ کا ایک بڑا سبب فصلوں کی باقیات کا بھی ہے۔ ہر سال اکتوبر میں کسان نئی فصل کی تیاری کے لیے پچھلی فصل کے ڈنٹھل جلا دیتے ہیں، جس سے فضا میں لاکھوں ٹن دھواں شامل ہوتا ہے۔

حکومت نے اس عمل پر پابندی عائد کی ہے اور پنجاب حکومت نے زرعی مشینری سبسڈی سکیم کے ذریعے کسانوں کو “Happy Seeder” اور “Super SMS” مشینیں فراہم کرنے کا آغاز کیا ہے تاکہ وہ کھیتوں میں باقیات کو جلائے بغیر زمین میں ملا سکیں۔ تاہم، کسانوں کو آگاہی اور مالی سہولت دونوں کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس مہنگی مشینری تک رسائی حاصل کر سکیں۔

نگرانی اور شفاف رپورٹنگ، وقت کی ضرورت

پاکستان کے پاس فضائی آلودگی کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کا نظام محدود ہے۔ لاہور اور اسلام آباد میں چند ضرور نصب ہیں، مگر ان کا ڈیٹا اکثر غیر فعال یا غیر مستند سمجھا جاتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت صنعتی علاقوں اور شہری مراکز میں بڑے پیمانے پر ریئل ٹائم ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سسٹم نصب کرے۔
ساتھ ہی بین الاقوامی معیار کے مطابق تھرڈ پارٹی آڈٹ اور سالانہ رپورٹ شائع کی جائے تاکہ عوام، ریگولیٹرز اور سرمایہ کار جان سکیں کہ کون سے ادارے قوانین کی پاسداری کر رہے ہیں اور کون نہیں۔

علاقائی تعاون

سموگ کسی سرحد کو نہیں جانتی۔ پاکستان، بھارت، نیپال اور بنگلہ دیش کے فضائی ذرات ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ Transboundary Pollution کے خاتمے کے لیے علاقائی تعاون ناگزیر ہے۔

جنوبی ایشیائی اقوام کو چاہیے کہ وہ “Regional Clean Air Framework” تشکیل دیں، جیسا کہ یورپی یونین نے کیا۔ ڈیٹا شیئرنگ، مشترکہ قوانین، اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے ذریعے ہی مؤثر حل ممکن ہے۔

حکومتِ پاکستان کے حالیہ اقدامات

حکومتِ پاکستان نے گزشتہ چند برسوں میں سموگ پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں:

نیشنل کلین ایئر پالیسی کی تیاری
پنجاب اسموگ ایکشن پلان 2023-2028 کا اجراء
لاہور ہائی کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد، جن میں سکولوں، دفاتر، اور ٹریفک نظام کے لیے خصوصی ایس او پیز شامل ہیں
سپرے آپریشنز اور فیلڈ چیکنگ مہمات، جن کے تحت فصلیں جلانے والوں پر جرمانے عائد کیے گئے
گرین انرجی منصوبے جیسے شمسی توانائی اور بائیو گیس یونٹس کی حوصلہ افزائی

عوامی آگاہی مہمات میڈیا، سوشل میڈیا اور اسکولوں کے ذریعے

اگرچہ یہ اقدامات قابلِ تعریف ہیں، مگر ان کا دائرہ محدود اور تسلسل کمزور ہے۔ جب تک قانون پر عملدرآمد مضبوط نہیں ہوتا، یہ پالیسی کاغذوں تک محدود رہ جائے گی۔

انسانی صحت پر اثرات

سموگ صرف آنکھوں اور گلے کی خراش کا مسئلہ نہیں یہ سانس کی بیماریاں، دمہ، دل کے مسائل اور پھیپھڑوں کا کینسرجیسے امراض کو جنم دیتی ہے۔ لاہور میں حالیہ سروے کے مطابق، فضائی آلودگی کے دنوں میں بچوں میں سانس کی شکایات میں 40 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

ڈاکٹرز کے مطابق، ماسک پہننا، گھروں کے اندر رہنا، اور ایئر پیوریفائر استعمال کرنا وقتی حل ہیں۔ اصل ضرورت ماحولیاتی اصلاحات کی ہے۔

نیلا آسمان واپس لانے کا سفر

دنیا نے اس مسئلے کا حل تلاش کر لیا ہے۔ لندن نے 1950 کی دہائی میں “Great Smog” کے بعد سخت قوانین لاگو کیے اور آج وہ صاف فضا والا شہر بن چکا ہے۔ چین نے 2014 میں “War on Pollution” شروع کی، جس کے نتیجے میں بیجنگ کی ہوا کا معیار کئی گنا بہتر ہوا۔

پاکستان بھی اگر سنجیدگی دکھائے تو یہ جنگ جیت سکتا ہے۔ جس کیلئے کچھ یہ ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔
پرانی گاڑیوں کی فیز آؤٹ پالیسی
صنعتی فضلے کی مسلسل نگرانی
فصلوں کی باقیات کو بائیو فیول، کمپوسٹ یا بائیو گیس میں استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی
شہری علاقوں میں درختوں اور گرین بیلٹس کا قیام
اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں ماحولیاتی تعلیم کو لازمی مضمون بنانا

عزمِ عمل کی ضرورت

سائنس واضح ہے، خطرہ حقیقی ہے، مگر کارروائی کی رفتار سست ہے۔ ہمیں اجتماعی طور پر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کس طرح کا آسمان دینا چاہتے ہیں نیلا، یا دھندلا زہریلا؟

اگر حکومت، صنعتیں اور عوام مل کر اپنی ذمہ داری نبھائیں، تو وہ دن دور نہیں جب لاہور، فیصل آباد اور کراچی کے آسمان دوبارہ صاف اور نیلے ہوں گے۔
یہ صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں، یہ زندگی اور موت کا سوال ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top