راولپنڈی (وسیم اشرف عباسی ) راولپنڈی کے مضافاتی علاقوں ڈھوک سیداں، گرجا روڈ، دھمیال روڈ، چکری روڈ اور گردونواح میں مہنگی اشیائے خوردونوش کی کھلے عام فروخت جاری ہے، جبکہ پرائس کنٹرول کا نظام عملی طور پر مکمل طور پر ناکام نظر آ رہا ہے۔ پرائس مجسٹریٹس کہیں دکھائی نہیں دیتے اور ضلعی انتظامیہ کی خاموشی نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
علاقائی مارکیٹوں میں دودھ 220 روپے فی لیٹر، دہی 240 روپے فی کلو، بڑا گوشت 2400 روپے فی کلو جبکہ مرغی کا گوشت 700 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ آٹے کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں، 10 کلو آٹے کا تھیلا 1300 روپے جبکہ 20 کلو کا تھیلا 2600 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر کبھی کبھار کوئی پرائس مجسٹریٹ علاقے کا رخ کر بھی لے تو چند دکانداروں کو معمولی جرمانے کر کے رسمی کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے، جس کے فوراً بعد وہی دکاندار دوبارہ من پسند قیمتوں پر اشیاء فروخت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
مستقل نگرانی نہ ہونے کے باعث دکانداروں کو کسی قسم کا خوف باقی نہیں رہا۔ عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مؤثر پرائس کنٹرول مہم شروع کی جائے، پرائس مجسٹریٹس کی روزانہ بنیادوں پر چیکنگ یقینی بنائی جائے اور من مانی قیمتیں وصول کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، بصورت دیگر غریب عوام کے لیے دو وقت کی روٹی بھی خواب بنتی جا رہی ہے۔









