نیویارک (سی این پی) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے وینزویلا کی صورتحال پر بلائے گئے ہنگامی اجلاس میں چین اور روس نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے امریکی فوجی کارروائی کو اقوام متحدہ چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دے دیا۔ اجلاس میں بین الاقوامی امن و سلامتی کو درپیش خطرات پر تفصیلی بحث کی گئی۔
سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے قائم مقام مندوب عثمان جدون نے کہا کہ وینزویلا کے معاملے کا حل طاقت نہیں بلکہ مکالمہ اور سفارت کاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یکطرفہ فوجی کارروائی خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتی ہے اور یو این چارٹر کسی بھی ملک کی سالمیت کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری نہیں کی گئی۔ انہوں نے وینزویلا میں عدم استحکام اور اس کے علاقائی اثرات پر خدشات ظاہر کرتے ہوئے ریاستی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا۔
سلامتی کونسل میں وینزویلا کے مندوب نے امریکی اقدام کو اغوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیرقانونی حملے میں شہری و فوجی ہلاکتیں ہوئیں اور بنیادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی امن صرف بین الاقوامی قوانین پر عملدرآمد سے ہی ممکن ہے اور کسی ملک کو خود کو عالمی جج بنانے کا حق حاصل نہیں۔
عالمی ردعمل اور بڑی طاقتوں کا مؤقف
روسی مندوب نے امریکی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکا وینزویلا کے قدرتی وسائل پر قبضے کے عزائم رکھتا ہے اور عالمی برادری کو اس پالیسی کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔
چینی مندوب نے کہا کہ امریکا نے لاطینی امریکا اور کریبیئن خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے یو این چارٹر کے احترام اور طاقت کے استعمال سے گریز کا مطالبہ کرتے ہوئے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی حفاظت اور فوری رہائی پر زور دیا۔
اس موقع پر امریکی مندوب نے کہا کہ امریکا نے وینزویلا میں ’’سرجیکل آپریشن‘‘ کیا، جس کا مقصد امریکی عوام کا تحفظ تھا۔ ان کے مطابق نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی عوام کے خلاف جرائم کے الزام میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات پر گرفتار کیا گیا۔








