ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پاکستان کی قیادت ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں سلمان علی آغا کی کپتانی نے نہ صرف ٹیم کی کارکردگی کو نیا رخ دیا بلکہ بورڈ کے تھنک ٹینک کا اعتماد بھی جیت لیا ہے۔ ان کی قائدانہ صلاحیتوں نے قومی ٹیم میں وہ فائٹنگ اسپرٹ واپس لے آئی ہے جو گزشتہ برسوں میں کم ہوتی دکھائی دے رہی تھی۔
ذرائع کے مطابق حکام سلمان علی آغا کی قیادت سے بے حد متاثر ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ موجودہ ٹیم یکجا ہو کر کھیل رہی ہے اور اسکواڈ میں وہ ٹیم ورک نظر آرہا ہے جو پہلے کم دکھائی دیتا تھا۔ اسی مضبوط کمبی نیشن کے باعث سلمان آغا کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ تک کپتان برقرار رہنے کے امکانات مزید روشن ہو گئے ہیں۔
سکواڈ میں شاداب خان کی واپسی کا امکان
ادھر سری لنکا کے دورے کے لیے اسکواڈ میں شاداب خان کی واپسی کا بھی امکان ہے۔ وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بھرپور ٹریننگ کر رہے ہیں جبکہ بگ بیش لیگ میں ان کی میچ فٹنس کو بھی پرکھا جائے گا۔
واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 آنے والے سال کے فروری اور مارچ میں بھارت اور سری لنکا کی میزبانی میں کھیلا جائے گا۔
پاکستان ٹیم کی موجودہ قیادت سلمان علی آغا کے ہاتھ میں ہے۔ بعض حلقوں کا خیال تھا کہ کپتانی دوبارہ شاداب خان کے پاس جا سکتی ہے یا شاہین شاہ آفریدی کو قیادت سونپی جا سکتی ہے، تاہم معاملات اس کے برعکس دیکھے جا رہے ہیں۔
اسی حوالے سے پی سی بی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بھی تصدیق کی ہے کہ میگا ایونٹ میں سلمان علی آغا ہی قومی ٹیم کی قیادت کریں گے۔ تھنک ٹینک کا ماننا ہے کہ سلمان کی کپتانی میں ٹیم نے جس مستقل مزاجی اور فائٹنگ اسپرٹ کا مظاہرہ کیا ہے، وہ کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
قیادت میں تبدیلی کا کوئی فائدہ نہیں، حکومتی آفیشل
ایک اور حکومتی آفیشل نے بھی یہی کہا کہ سلمان علی آغا نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے ٹیم کو دوبارہ وننگ ٹریک پر ڈال دیا ہے۔ کھلاڑی یکجا ہو کر کامیابی کے لیے لڑتے دکھائی دیتے ہیں، اس لیے قیادت میں تبدیلی کا کوئی فائدہ نہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ سال 2025 میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پاکستان نے سب سے زیادہ 21 فتوحات حاصل کیں، جو ایک فل ممبر ٹیم کا نمایاں ریکارڈ ہے۔
سلمان علی آغا نے اپنے کیریئر کے 40 میں سے 38 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل بطور کپتان کھیلے۔ انہوں نے 24.85 کی اوسط سے 671 رنز بنائے اور 23 فتوحات کے ساتھ پاکستان کے تیسرے کامیاب ترین کپتان بن چکے ہیں۔
اس فہرست میں بابر اعظم 48 اور سرفراز احمد 29 فتوحات کے ساتھ بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔







