قانونی تاریخ کا سنگِ میل، سینٹ سے 27ویں آئینی ترمیم منظور

اسلام آباد: پاکستان کی سیاسی و آئینی تاریخ میں ایک نیا باب رقم، سینیٹ نے دو تہائی اکثریت سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے کر ملک کے عدالتی و دفاعی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھ دی۔ 59 شقوں پر مشتمل اس تاریخی ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کا قیام، ہائی کورٹ ججز کے تبادلوں کا نیا نظام، اور آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا اضافی عہدہ دینے جیسی اہم ترامیم شامل ہیں۔
59 شقوں پر مشتمل آئینی ترمیم کے نتیجے میں چاروں صوبوں کی نمائندگی سے نئی فیڈرل آئینی عدالت قائم ہو گی ۔ہائی کورٹ کے ججز کی ایک سے دوسری ہائی کورٹ ٹرانسفر ممکن ہو گی۔

صدر مملکت کو کسی دوسرے پبلک آفس سنبھالنے تک فوجداری مقدمات پر استشنیٰ حاصل ہو گا۔آئین کی 243 شق میں ترمیم کی منظوری سے ستائیس نومبر سے چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کردیاگیا۔آرمی چیف کے پاس چیف آف ڈیفنس کا عہدہ بھی ہو گا۔شاندار کامیابی کے اعتراف کی صورت میں مارشل آف ائیر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے ٹائٹل متعارف، تینوں ٹائٹل عمر بھر کے لئے ہو نگے۔

سینیٹ اجلاس میں قانون و انصاف کی سینیٹ اور قومی اسمبلی کے قائمہ کمیٹیوں کے ارکان پر مشتمل کمیٹی کے سربراہ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے 27ویں آئینی ترمیم کے تفصیلی جائزے کے بعد اسکی منظوری سے متعلق رپورٹ ایوان میں پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ ججوں کے تبادلے سے متعلق ترمیم بھی منظور کی گئی ہے ،ججوں کا تبادلہ اب جوڈیشل کمیشن کے تحت ہو سکے گا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہائی کورٹ کا جو جج تبادلہ قبول نہیں کرے گا اس کے خلاف ریفرنس دائر ہوگا۔

سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی میں بحث کے دوران ایم کیو ایم کی جانب سے بلدیاتی نظام اور عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے خیبر پختونخوا کا نام صرف پختونخوا رکھنے کی تجاویز پیش کی گئیں جن پر فوری فیصلہ نہیں کیا گیا اور ان پر مزید مشاورت جاری رہے گی ۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے”دستور ستائیسویں ترمیم بل 2025″ منظوری کے لئے ایوان میں پیش کی۔ اس موقع پر وزیر قانون نے وفاقی آئینی عدالت کے قیام ، ہائی کورٹ کے ججز کی ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ میں ٹرانسفر، آرمڈ فورسز کی کمانڈ سے متعلق آئین کی شق 243 میں ترمیم ، آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ دئیے جانے ، فیلڈ مارشل کی طرح دشمن کے خلاف جنگ جیتنے کی صورت میں مارشل آف ائیر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے نئے ٹائٹلز متعارف کرانے ، صدر مملکت کو انکی آئینی مدت کے دوران عمر بھر کے لئے عدالتی استشنیٰ حاصل ہونے جیسی ترمیم کے اہم نکات سے متعلق ایوان کو آگاہ کیا۔

وزیر قانون نے بتایا کہ نئی وفاقی آئینی عدالت کا قیام ہمارے عدالتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی ہے جس سے انصاف کے نظام میں مجموعی طور پر بہت بہتری آئے گی۔

بعدازاں چئیرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے”دستور ستائیسویں ترمیمی بل 2025″ کی شق وار منظوری لی۔ سینیٹ میں بل کی منظوری کے لئے دو تہائی اکثریت کے لئے 64 ارکان کے ووٹس کی ضرورت تھی جو حکومت نے حاصل کر لئے۔اپوزیشن کے دو ارکان سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی کے احمد خان نے ستائیسویں آئینی ترمیم کی منظوری کے عمل میں حکومت کا ساتھ دیا۔

بل مجموعی طور پر 59 شقوں پر مشتمل ہے جس میں صرف پہلی تین شقوں کی منظوری کے عمل میں ایک اور پھر دو ووٹ خلاف آئے۔ باقی تمام شقوں کے حق میں 64 اور مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا جس سے ان شقوں کی متفقہ منظوری ممکن ہوئی۔

ستائیسویں آئینی ترمیم پر مشتمل بل کی اب قومی اسمبلی سے منظوری لی جائے گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top