جنیوا (ویب ڈیسک) اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ عالمی سطح پر بے روزگاری کی شرح 2026 میں بظاہر مستحکم رہنے کی توقع ہے، تاہم یہ ظاہری استحکام درحقیقت معیاری اور باعزت روزگار کی شدید کمی کو چھپا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں افراد روزگار تو رکھتے ہیں، مگر کم اجرت، غیر یقینی حالات اور غربت سے نجات حاصل نہیں کر پا رہے، جو عالمی لیبر مارکیٹ کیلئے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت اور لیبر مارکیٹ نے حالیہ معاشی جھٹکوں کو توقع سے بہتر انداز میں برداشت کیا ہے، تاہم اس کے باوجود روزگار کے معیار میں بہتری کی کوششیں جمود کا شکار ہو چکی ہیں۔
آئی ایل او کے مطابق اس صورتحال کے باعث دنیا بھر میں کروڑوں محنت کش ایسے حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں جہاں کم اجرت اور غیر مستحکم روزگار انہیں غربت سے باہر نکلنے کا موقع نہیں دے رہا، جبکہ عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال مزدوروں کی آمدن کو مزید متاثر کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی بے روزگاری کی شرح گزشتہ دو برسوں کی طرح 4.9 فیصد رہی اور اندازہ ہے کہ یہ شرح 2027 تک تقریباً اسی سطح پر برقرار رہے گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ رواں برس دنیا بھر میں تقریباً 18 کروڑ 60 لاکھ افراد بے روزگار ہیں۔
آئی ایل او کی ریسرچ ڈپارٹمنٹ کی سربراہ کیرولین فریڈرکسن کا کہنا ہے کہ بظاہر عالمی لیبر مارکیٹ مستحکم دکھائی دیتی ہے، لیکن یہ استحکام نہایت نازک ہے اور اس کے پیچھے گہرے اور حل طلب مسائل موجود ہیں۔
عالمی تجارت اور مزدوروں کیلئے خطرے کی گھنٹی
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوست اور مخالف ممالک دونوں پر بھاری ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، جو لیبر مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
آئی ایل او کے مطابق تجارتی پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال میں معمولی اضافہ بھی محنت کی آمدن میں کمی کا باعث بن سکتا ہے، جس سے ہنر مند اور غیر ہنر مند دونوں طبقوں کی حقیقی اجرت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اس کے اثرات خاص طور پر جنوب مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا اور یورپ میں زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں، جہاں بڑی تعداد میں روزگار عالمی تجارت سے منسلک ہے۔
آئی ایل او کا کہنا ہے کہ 2024 میں دنیا بھر میں تقریباً 46 کروڑ 50 لاکھ ملازمتیں ایسی تھیں جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر عالمی برآمدات اور سپلائی چین کے ذریعے غیر ملکی طلب پر انحصار کرتی تھیں، تاہم جاری تجارتی خلل ان مواقع کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔









