عمران خان قید تنہائی

عمران خان کی قید تنہائی، پی ٹی آئی سینیٹرز کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے 14 سینیٹرز نے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مبینہ طور پر قید تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں پر پابندی کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ قید کی موجودہ صورتحال آئینِ پاکستان، جیل قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

درخواست گزاروں کے مطابق عمران خان گزشتہ ڈھائی برس سے زائد عرصے سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں، تاہم اس دوران انہیں اہلِ خانہ، بہنوں اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت بارہا روکی گئی۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈالنا قانون کی عمل داری پر سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔

درخواست میں نشاندہی کی گئی ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو طویل عرصے تک تنہائی میں رکھنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ عمل ذہنی اذیت اور غیر انسانی سلوک کے زمرے میں آتا ہے، جس کی آئین اور قانون اجازت نہیں دیتے۔

پی ٹی آئی سینیٹرز کا مؤقف ہے کہ سیاسی اختلاف کی بنیاد پر قیدیوں کے بنیادی حقوق سلب نہیں کیے جا سکتے اور ریاستی اداروں کو قانون کے دائرے میں رہ کر فرائض انجام دینا ہوں گے۔

قید تنہائی کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا

اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی گئی، جس میں وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ قید تنہائی پاکستان پینل کوڈ 1860 کی دفعہ 73 اور پریزنز ایکٹ 1894 کی دفعہ 30 کے منافی ہے۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ عمران خان، بشریٰ بی بی اور دیگر قیدیوں کے ساتھ روا رکھا گیا سلوک غیر آئینی، غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جائے۔ ساتھ ہی عدالت کو ہدایت کی جائے کہ قید تنہائی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے واضح اور پابند ضابطۂ کار تشکیل دیا جائے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تنہ ی قید کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جو جمہوری اقدار اور آئینی روح کے منافی ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ قیدیوں کے بنیادی حقوق اور انصاف کے نظام کی ساکھ سے جڑا ہوا ہے۔

ملاقاتوں اور بنیادی سہولیات کی بحالی کا مطالبہ

پی ٹی آئی سینیٹرز نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں عمران خان سے باقاعدہ وقفوں کے ساتھ ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ قید کی صورتحال اور بنیادی حقوق کے تحفظ کا جائزہ لیا جا سکے۔ درخواست میں کتابیں، اخبارات، ٹی وی اور اہلِ خانہ سے ملاقات جیسی سہولیات کی فوری بحالی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین اور جیل قوانین ہر قیدی کو انسانی وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیتے ہیں، جسے کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

بیرسٹر گوہر کا بروقت انصاف کا مطالبہ

ادھر راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات نہ ہونے دینا آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا: “بانی چیئرمین سے ملاقات ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے، انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔”

بیرسٹر گوہر نے زور دیا کہ پی ٹی آئی کا احتجاج پُرامن ہوگا اور پارٹی ہمیشہ قانون اور ریاست کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top