غزہ میں جنگ بندی کے بعد امن و امان کی بحالی کے لیے فرانس اور برطانیہ نے امریکا کی حمایت کے ساتھ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک نئی قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ایک ’’بین الاقوامی استحکام فورس‘‘ کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔ عالمی ذرائع کے مطابق، اس فورس کا مقصد غزہ میں ایک مضبوط اور قانونی فریم ورک کے تحت سیکیورٹی کی بحالی، انسانی امداد کی رسائی اور انتظامی ڈھانچے کو سہارا دینا ہوگا۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ عالمی امن فورس کی تشکیل کے لیے اقوامِ متحدہ کا باقاعدہ مینڈیٹ حاصل کرنا ناگزیر ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فورس اقوامِ متحدہ کی روایتی امن فورسز سے مختلف ہوگی اور اس کا ماڈل ہیٹی میں تعینات بین الاقوامی مشن سے ملتا جلتا ہوگا، جہاں شراکت دار ممالک کو تمام ضروری اقدامات کا اختیار حاصل تھا۔ امریکی مشیروں کے مطابق، اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ بندی ایک نازک مرحلے میں ہے، جس کے پیش نظر غزہ میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے فورس کی منصوبہ بندی فوری بنیادوں پر کی جا رہی ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق 10 اکتوبر کو پیرس میں یورپی و عرب نمائندوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی مشاورت ہوئی جس میں فورس کی ساخت، اختیارات اور مجوزہ ممالک کی شمولیت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اب تک انڈونیشیا، مصر، متحدہ عرب امارات، قطر، آذربائیجان اور اٹلی نے فورس کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ انڈونیشیا کے صدر اقوامِ متحدہ میں 20,000 اہلکار فراہم کرنے کی پیشکش بھی کر چکے ہیں۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ فورس کی تشکیل ایک تدریجی عمل ہوگا اور سلامتی کونسل میں قرارداد کی منظوری کے بعد ہی عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ چند دنوں میں قرارداد کا مسودہ مکمل کر کے ووٹنگ کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔








