اسلام آباد میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی افراد کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے قائم خصوصی ٹاسک فورس کا اجلاس پیر کے روز چیف کمشنر اسلام آباد و چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس سید ناصر علی رضوی کے علاوہ راولپنڈی، اٹک، ہری پور اور مری کی ضلعی انتظامیہ و پولیس، وزارت داخلہ، نادرا، پی ٹی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران متعلقہ افسران نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مختلف اضلاع سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی افراد کی واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ حکام کے مطابق زیادہ تر غیر قانونی مقیم افراد کو رضاکارانہ طور پر واپس بھیجا جا رہا ہے، جبکہ بین الاضلاعی رابطہ اور ڈیٹا شیئرنگ کے نظام کو بھی مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کارروائیاں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے منظم انداز میں جاری رکھی جائیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو کرایہ پر رہائش فراہم کرنے والے مالک مکانوں کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے۔ حکام کے مطابق فیلڈ نگرانی اور ریکارڈ کی جانچ کے ذریعے ایسے عناصر کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ قانون شکنی میں ملوث کسی فرد یا گروہ کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ اجلاس میں جاری کارروائیوں کی پیشرفت اور آئندہ حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جعلی دستاویزات اور بستیوں کے خلاف سخت کارروائی
چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے ہدایت کی کہ ملحقہ علاقوں میں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کو بجلی سمیت دیگر یوٹیلٹیز کی فراہمی پر مکمل پابندی یقینی بنائی جائے اور کسی قسم کی رہائش یا روزگار فراہم نہ کیا جائے۔
انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس سید ناصر علی رضوی نے کہا کہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی بستیوں کے خاتمے کے لیے سخت اور مؤثر کارروائیاں کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جعلی دستاویزات، جعلی شناختی کارڈز، کاروباری اور طبی سہولیات کے غلط استعمال میں ملوث عناصر کے خلاف بھی بلا امتیاز کارروائی ہوگی۔ چیئرمین سی ڈی اے نے تمام گیسٹ ہاؤسز اور مالک مکانوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی املاک میں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی موجودگی یقینی طور پر روکیں۔ ان اقدامات کا مقصد ملک کی سلامتی اور شہریوں کو پُرامن ماحول فراہم کرنا قرار دیا گیا۔









