پنجاب ایمرجنسی سروس (ریسکیو 1122)

پنجاب کا سب سے بڑا فلڈ ریسکیو آپریشن ، 4 لاکھ 70 ہزار زندگیاں بچائی گئیں

راولپنڈی (وسیم اشرف عباسی سے) سیکرٹری ایمرجنسی سروسز پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر نے انکشاف کیا ہے کہ سال 2025 کے دوران پنجاب ایمرجنسی سروس (ریسکیو 1122) کو گزشتہ سال کے مقابلے میں 10 فیصد زائد ایمرجنسی کالز موصول ہوئیں، تاہم ادارے نے محدود وسائل کے باوجود 28 لاکھ 88 ہزار سے زائد متاثرین کو بروقت اور مؤثر ریسکیو سہولیات فراہم کر کے ایک نئی مثال قائم کر دی۔

ایمرجنسی سروسز ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ سالانہ آپریشنل کارکردگی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر رضوان نصیر نے بتایا کہ سال 2025 میں ریسکیو 1122 نے 25 لاکھ سے زائد ایمرجنسی واقعات پر ریسپانس دیا، جن میں سب سے زیادہ بوجھ روڈ ٹریفک حادثات کا رہا۔ اعداد و شمار کے مطابق صوبہ بھر میں 4 لاکھ 93 ہزار 489 ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے جو سال 2024 کے مقابلے میں 5.55 فیصد زیادہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان حادثات کے نتیجے میں 2 لاکھ 48 ہزار 471 افراد شدید زخمی ہو کر معذوری کا شکار ہوئے جبکہ 4 ہزار 944 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ ٹریفک حادثات کے بعد میڈیکل ایمرجنسیز میں پیٹ درد، ہائی بلڈ پریشر، سانس کی تکلیف اور تیز بخار کے کیسز نمایاں رہے۔

اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں پنجاب بھر میں 28 ہزار 829 آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.89 فیصد اضافے کو ظاہر کرتے ہیں، جس پر ڈاکٹر رضوان نصیر نے فائر سیفٹی اقدامات پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

🔹 پنجاب میں تاریخی فلڈ ریسکیو آپریشن

ڈاکٹر رضوان نصیر نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں سال 2025 کے دوران پنجاب کے تین دریاؤں میں بیک وقت تاریخی فلڈ ریسکیو آپریشن کیا گیا۔ اس دوران 1,500 سے زائد کشتیوں کے ذریعے 4 لاکھ 70 ہزار سے زائد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ 26 لاکھ افراد اور 21 لاکھ سے زائد جانوروں کو پیشگی انخلاء کے ذریعے بڑے نقصان سے بچایا گیا۔

اجلاس میں ہیڈ آف آپریشنز نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سال 2025 میں ریسکیو 1122 نے 16 لاکھ 77 ہزار سے زائد میڈیکل ایمرجنسیز، 45 ہزار 992 جرائم سے متعلق واقعات، 65 ہزار 20 ڈیلیوری کیسز، 67 ہزار 409 بلندی سے گرنے کے واقعات اور 14 ہزار 351 جانوروں کے ریسکیو آپریشنز سرانجام دیے۔

موٹر بائیک ریسکیو سروس نے 12 لاکھ 78 ہزار سے زائد ایمرجنسیز میں اوسطاً پانچ منٹ کے شاندار رسپانس ٹائم کے ساتھ خدمات انجام دیں، جبکہ ایئر ایمبولینس سروس کے ذریعے 190 شدید مریضوں کو دور دراز علاقوں سے بڑے شہروں کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

آخر میں ڈاکٹر رضوان نصیر نے تمام ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسران، آپریشنل اسٹاف اور یونٹس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے عمارتوں کے مالکان پر زور دیا کہ وہ پنجاب کمیونٹی سیفٹی بلڈنگ ریگولیشنز 2022 کے تحت فائر سیفٹی اقدامات، فائر ہائیڈرنٹس اور ایمرجنسی ریسپانس ٹیمز کے قیام کو یقینی بنائیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top