فیصل آباد کے علاقے ملک پور میں ایک کیمیکل فیکٹری میں زوردار دھماکے نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ دھماکے کے بعد فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی اور دھماکا اتنا شدید تھا کہ فیکٹری زمین بوس ہوگئی اور ملحقہ گھروں کی چھتیں بھی گر گئیں۔ ریسکیو حکام نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور اب تک 14 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ دو زخمی اسپتال میں جان کی بازی ہار گئے۔ مزید چھ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر کے طبی امداد دی جا رہی ہے۔
جائے وقوعہ سے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے اور فیکٹری و گھروں کے ملبے تلے مزید افراد دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا گیس پائپ لائن پھٹنے سے ہوا، جبکہ ملک پور میں چار فیکٹریاں ایک ساتھ منسلک تھیں۔ زیادہ جانی نقصان ان گھروں کے رہائشیوں کا ہوا جو فیکٹری سے جڑے ہوئے تھے۔
کمشنر فیصل آباد نے بتایا کہ دھماکے کی مکمل تحقیقات کے لیے پانچ رکنی کمیٹی قائم کی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سانحہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور جاں بحق افراد کے لواحقین سے ہمدردی ظاہر کی۔ انہوں نے کمشنر سے دھماکے کی مکمل رپورٹ طلب کرلی ہے۔









