تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں منعقدہ مس یونیورس 2025 میں دنیا کی سب سے خوبصورت اور باصلاحیت خواتین نے اپنے جوہر دکھائے، لیکن سب کی نظریں میکسیکو کی فاطمہ بوش پر مرکوز تھیں۔ سال کی خوبصورتی کا تاج فاطمہ بوش کے سر سجا، جسے گزشتہ سال کی فاتح ڈنمارک کی وکٹوریا کیئر تھیلوگ نے پہنایا۔ فاطمہ کی کامیابی نے نہ صرف میکسیکو بلکہ دنیا بھر میں مداحوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی۔
اس سال کا مقابلہ ابتدا سے ہی توجہ کا مرکز رہا۔ فائنل سے قبل فاطمہ بوش کو تھائی ایونٹ ڈائریکٹر کی جانب سے سرِعام تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس پر متعدد فائنلسٹ حسیناؤں نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ اس ڈرامائی واقعے کے بعد بھی فاطمہ بوش مداحوں کی دل کی پسندیدہ اور فائنل کی مضبوط امیدوار کے طور پر ابھریں۔ مزید پیچیدگی یہ تھی کہ مس یونیورس کے دو ججز نے بھی فائنل سے قبل استعفیٰ دے دیا تھا، جو اس مقابلے کو غیر معمولی اور سنسنی خیز بنا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فائنل میں میزبان ملک تھائی لینڈ کی وینا پروینر سنگھ کو فرسٹ رنر اپ قرار دیا گیا، جبکہ ٹاپ 5 میں وینزویلا کی اسٹیفنی اباسالی، فلپائن کی آتھیسا مانیلو اور آئیوری کوسٹ کی اولیویا یاسے شامل رہیں۔ اس مقابلے میں 120 ممالک کی نمائندہ خواتین نے حصہ لیا۔ اس سال کے مقابلے میں فلسطین کی ندین ایوب اور متحدہ عرب امارات کی مریم محمد پہلی بار میدان میں اتریں، جبکہ پاکستان کی نمائندگی روما ریاض نے کی۔
واضح رہے کہ فاطمہ بوش نہ صرف حسن بلکہ انسانیت دوست سرگرمیوں اور رضاکارانہ کاموں کے لیے بھی جانی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ دنیا بھر کے مداحوں میں مقبولیت حاصل کر چکی ہیں۔ ان کی شخصیت اور سماجی خدمات نے انہیں نہ صرف خوبصورتی بلکہ دلوں کی بھی رانی بنایا ہے۔









