نابینا نیلوفر کا راز، فواد ماہرہ کا بڑا رسک ، پورا سچ سامنے آگیا

انتظار کی گھڑیاں ختم ہو چکیں۔ ماہرہ خان اور فواد خان کی فلم نیلوفر 28 نومبر کو پاکستان سمیت متعدد ممالک کے سینما گھروں کی زینت بننے جا رہی ہے۔ ریلیز سے پہلے ہی اس کا ٹریلر اور گانے سوشل میڈیا پر دھوم مچا چکے ہیں، اور مداح اسے رواں سال کی سب سے بڑی اور شاندار پاکستانی فلم قرار دے رہے ہیں۔ شائقین نہ صرف دونوں سپر اسٹارز کی جوڑی کو دوبارہ بڑے پردے پر دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں بلکہ فلم کے منفرد موضوع نے بھی تجسس میں اضافہ کر دیا ہے۔

نیلوفر کی کہانی بینائی سے محروم ایک لڑکی اور الفاظ کا جادو جگانے والے ایک ادیب کے گرد گھومتی ہے—ایک ایسی محبت جو روشنی سے بےنیاز ہو کر دلوں میں راستہ بناتی ہے۔ لیکن اس سادہ اور خوبصورت محسوس ہونے والی فلم کے پیچھے ایک طویل اور مشکل سفر چھپا ہوا ہے، جس نے اس پروجیکٹ کو کئی سال تک تاخیر کا شکار کیے رکھا۔

فواد خان، جو اس فلم کے پروڈیوسر بھی ہیں، بتاتے ہیں کہ نیلوفر کی سب سے بڑی رکاوٹ کورونا وبا ثابت ہوئی۔ وبا کے آغاز پر شوٹنگ فوراً روک دی گئی کیونکہ ٹیم کی صحت کو ترجیح دی گئی۔ لیکن اصل مسئلہ اس کے بعد شروع ہوا—پورے عمل کو دوبارہ منظم کرنے، شیڈول بنانے، بجٹ ایڈجسٹ کرنے اور لوکیشنز مینج کرنے میں دو سے تین سال لگ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ فلم کی ریلیز بارہا مؤخر ہوئی اور شائقین انتظار میں مبتلا رہے۔

فلم کا ایک نمایاں پہلو ماہرہ خان کی بطور نابینا لڑکی “نیلوفر” حقیقی اور جذباتی کارکردگی ہے۔ کردار کو حقیقت کے قریب لانے کے لیے ماہرہ نے نہ صرف نابینا لڑکیوں سے ملاقاتیں کیں بلکہ ان کے چلنے، دیکھنے، بولنے اور ردعمل دینے کے انداز کا بغور مشاہدہ کیا۔ انہوں نے آنکھوں کی حرکت، جسمانی توازن اور چہرے کے تاثرات پر خصوصی ورک کیا تاکہ کردار میں مصنوعی پن محسوس نہ ہو۔ ان کے مطابق یہ کردار جذباتی طور پر بھی مشکل تھا، کیونکہ نیلوفر کے دکھ اور امید دونوں کو بیک وقت ادا کرنا ایک نازک توازن کا تقاضا کرتا ہے۔

نیلوفر کا ایک اور خوبصورت عنصر لاہور کی سردیاں ہیں، جو فلم کے رومانس اور جمالیاتی ماحول کو مزید گہرا کر دیتی ہیں۔ فواد خان کے مطابق، ابتدائی ناظرین نے فلم دیکھ کر کہا کہ “لاہور کی سردیوں کی خوشبو محسوس ہونے لگی۔” فلم کے لوکیشنز، روشنیوں کا امتزاج، اور شہر کی تہذیبی جھلک اسے عام فلموں سے بالکل مختلف بناتے ہیں۔

کہانی اپنے اندر کئی سوال سموئے ہوئے ہے—کیا محبت بینائی کی محتاج ہے؟ کیا دو نازک روحیں ایک دوسرے کو مکمل کر سکتی ہیں؟ اور کیا محبت اندھیرے میں بھی روشنی تلاش کر لیتی ہے؟ ٹریلر میں دکھائی گئی جھلکیاں بتاتی ہیں کہ فلم جذبات، قربت، جدائی اور پیار کے حسین امتزاج کو نہایت خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔

یہ فواد خان کی پروڈکشن کے طور پر پہلی فلم ہے، اور وہ اسے ایک دل سے جڑی ہوئی کاوش قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ صرف وہی کام کرنا چاہتے ہیں جو تخلیقی سچائی کے قریب ہو، نہ کہ محض تجارتی ضرورتوں کے تحت بنایا گیا ہو۔ ماہرہ خان بھی سمجھتی ہیں کہ فواد جیسے فنکار اگر پروڈکشن میں قدم رکھیں تو پاکستانی فلم انڈسٹری کا معیار نمایاں طور پر بہتر ہو سکتا ہے۔

28 نومبر کو ریلیز ہونے والی نیلوفر کو فلم ناقدین، مداحوں اور انڈسٹری کے لوگوں کی جانب سے ایک مضبوط، جذباتی اور معیاری فلم قرار دیا جا رہا ہے—اور امکان ہے کہ یہ فلم پاکستانی سنیما کے لیے ایک نئی مثال قائم کرے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top