اسلام آباد : فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو وبائی اور متعدی امراض سے نمٹنے کے لیے جدید صلاحیتوں سے لیس کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، یہ بات ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں تقریباً 75 فیصد بیماریاں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہیں، اس لیے انسانی صحت کو ون ہیلتھ اپروچ کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔
ڈاکٹر شہزاد علی خان یہ باتیں ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے زیر اہتمام ون ہیلتھ ورک فورس پروگرام برائے وبائی تیاری کے تحت ضلعی مینیجرز اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کے لیے منعقدہ دو روزہ تربیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ پروگرام کا مقصد وبائی امراض کی روک تھام، بروقت تشخیص اور مؤثر ردعمل کے لیے انسانی وسائل کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔
وائس چانسلر نے کہا کہ اینیمل ہیلتھ کا کردار نئی اور ابھرتی ہوئی بیماریوں میں اہم ہے، اس لیے انسانی صحت، جانوروں کی صحت اور ماحولیاتی عوامل کو یکجا کر کے دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر بیماریوں کی روک تھام کے لیے صرف ایک سیکٹر پر توجہ دی جائے تو مؤثر نتائج نہیں مل سکتے، اسی لیے تربیتی پروگرام میں شرکاء کو عملی میدان میں کام کے لیے بنیادی اور اہم صلاحیتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
ڈاکٹر شہزاد علی خان نے کہا کہ اکیڈمی نہ صرف تربیتی سرگرمیوں بلکہ ریسرچ اور پالیسی سازی میں بھی فعال ہے تاکہ مستقبل میں صحت کے چیلنجز کا بروقت حل ممکن بنایا جا سکے۔ پروگرام 13 اور 14 جنوری 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے ہیلتھ افسران اور فرنٹ لائن ورکرز نے حصہ لیا۔









