تحریر : ابو قاسم
سال 2025 کرکٹ کے حوالے سے غیرمعمولی ثابت ہوا۔ اس سال نہ صرف بیٹ اور بال کی جنگ نئی رفتار اور حکمت عملیوں کے ساتھ سامنے آئی، بلکہ بہت سے مقابلوں میں ایسے غیرمتوقع موڑ آئے جنہوں نے شائقین کو آخری گیند تک اسکرین سے جڑے رکھا۔ ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا، ڈی آر ایس فیصلوں نے کئی مرتبہ میچ کا نقشہ بدلا، اور T20 کے تیز رفتار ماحول نے دیگر فارمیٹس کو بھی بدل کر رکھ دیا۔ 2025 کے دوران دنیا بھر کے میدانوں میں کرکٹ کے ایسے یادگار لمحے سامنے آئے جن کے بارے میں ماہرین آج بھی تجزیے کر رہے ہیں۔
ان ہی یادگار مقابلوں میں سے ہم نے سال کے 10 بہترین، سنسنی خیز، تکنیکی لحاظ سے اہم اور جذباتی رنگ لیے ہوئے میچز کا انتخاب کیا ہے۔ یہ وہ مقابلے ہیں جن میں ہر گیند پر توقعات بدلتی رہیں، ہر اوور کسی نئی کہانی کی بنیاد بنا، اور آخر میں جیت اسی ٹیم کے حصے میں آئی جس نے آخری لمحے تک جدوجہد جاری رکھی۔
نیچے پیش کیے گئے تمام میچز اپنی نوعیت، سیاق و سباق اور نتیجے کے اعتبار سے 2025 کے نمایاں ترین انٹرنیشنل کرکٹ مقابلے ہیں۔
پاکستان بمقابلہ بھارت (ٹیسٹ) کراچی
اس یادگار ٹیسٹ نے 2025 کے کرکٹ سیزن کا آغاز ہی غیر معمولی بنا دیا۔ بھارت نے پہلی اننگز میں 402 رنز بنا کر مضبوط مقام حاصل کر لیا۔ پاکستان کی بیٹنگ ابتدا میں دباؤ میں آئی اور آدھی ٹیم صرف 120 پر پویلین لوٹ گئی۔ اس صورتحال میں امام الحق اور سعود شکیل نے کرکٹ کی تاریخ میں اپنی جگہ بنانے والے 233 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی، جس نے پورے میچ کی سمت بدل دی۔ پاکستان 361 رنز تک پہنچ گیا اور میچ متوازن ہو گیا۔
بھارت دوسری اننگز میں 240 رنز پر آؤٹ ہوا، جبکہ کراچی کی خشک وکٹ آخری دن اسپنرز کے حق میں جاتی نظر آ رہی تھی۔ پاکستان کو جیت کے لیے 282 رنز کا مشکل ہدف ملا۔ ابتدا میں دو وکٹیں جلدی گر جانے سے شائقین پریشان ہوئے، مگر بابر اعظم نے کپتانی کی بہترین مثال قائم کرتے ہوئے 131 رنز کی کیریئر بیسٹ چوتھی اننگز اننگز کھیلی۔ عبداللہ شفیق کے ساتھ 147 رنز کی پارٹنرشپ نے بھارت کے بولرز کو بے بس کر دیا۔ میچ آخری سیشن میں فیصلہ کن موڑ پر پہنچا مگر پاکستان نے چھ وکٹوں کے نقصان پر ہدف حاصل کر کے کراچی ٹیسٹ کو نئی تاریخ بنا دیا۔
یہ میچ صرف ایک فتح نہیں بلکہ ایک بیان تھا کہ پاکستان ٹیسٹ کرکٹ میں دوبارہ مضبوطی سے ابھر رہا ہے۔
آسٹریلیا بمقابلہ جنوبی افریقہ (ون ڈے)، جوہانسبرگ
جوہانسبرگ کی بیٹنگ فرینڈلی وکٹ نے اس میچ کو سال کے ہائی اسکورنگ مقابلوں میں شامل کر دیا۔ آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کی اور 50 اوورز میں 360 رنز اسکور کیے۔ اسٹیو اسمتھ کے برق رفتار 142 رنز کی بدولت آسٹریلیا مکمل کنٹرول میں تھا۔ باؤنڈریز کی برسات نے فیلڈرز کو بے بس کر رکھا تھا۔
اس کے جواب میں جنوبی افریقہ نے بھی جارحانہ آغاز کیا۔ ڈی کوک اور مارکرم نے 145 رنز کی شاندار شراکت قائم کی، جس سے میچ دلچسپ مقابلے میں تبدیل ہو گیا۔ 35 اوورز تک جنوبی افریقہ مطلوبہ رفتار میں تھا، مگر اسٹارک کے دو اہم اوورز نے بہاؤ روک دیا۔ آخری 10 اوورز میں 98 رنز درکار تھے۔ کلاسن نے زبردست ہٹنگ کی مگر مسلسل وکٹیں گرتی رہیں۔ میچ آخری دو اوورز تک گیا اور جنوبی افریقہ صرف 12 رنز سے ہار گیا۔
یہ وہ مقابلہ تھا جس میں بیٹنگ نے مکمل راج کیا، مگر آخری لمحات نے دکھایا کہ دباؤ ہمیشہ رنز سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔
سری لنکا بمقابلہ بنگلہ دیش (ٹی ٹوئنٹی) کولمبو
یہ میچ T20 کرکٹ کی اصل روح کا عکاس تھا تیز، غیرمتوقع اور انتہائی سنسنی خیز۔ سری لنکا نے پہلے کھیلتے ہوئے 179 رنز بنائے۔ بنگلادیش نے جواب میں شاندار آغاز کیا، مگر وسط میں دو اوورز نے میچ کا توازن بدل دیا۔ جب آخری اوور میں 12 رنز درکار تھے، لٹن داس نے پہلی دو گیندوں پر باؤنڈریز لگا دیں۔ اس کے بعد ایک وکٹ گری، دو سنگلز ہوئے، اور میچ ٹائی ہو گیا۔
سپر اوور میں بنگلادیش نے صرف 11 رنز بنائے، جس میں دو ڈاٹ بالز شامل تھیں۔ سری لنکا کی طرف سے کوسل مینڈس نے پہلی ہی گیند پر چھکا لگا کر دباؤ ختم کر دیا۔ باقی اوور آسانی سے مکمل ہوا اور میزبان ٹیم نے سپر اوور میں جیت حاصل کر لی۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق یہ 2025 کے سب سے دلچسپ T20 فنشز میں سے ایک تھا۔
انگلینڈ بمقابلہ آسٹریلیا (ایشیز ٹیسٹ)، ناٹنگھم
ایشیز کی روایت ہمیشہ جذبات، دباؤ اور غیرمعمولی ڈرامے سے بھری رہی ہے۔ اس ٹیسٹ میں بھی کچھ مختلف نہیں ہوا۔ آسٹریلیا نے پہلی اننگز میں 316 رنز بنائے، جبکہ انگلینڈ نے جواب میں 298 رنز تک رسائی حاصل کی۔ دوسری اننگز میں آسٹریلیا 241 رنز پر آؤٹ ہوئی۔ انگلینڈ کو 260 رنز کا ہدف ملا، وہ ہدف جو ناٹنگھم کی چوتھی اننگز میں مشکل سمجھا جاتا ہے۔
انگلینڈ نے بیٹنگ میں تسلسل دکھایا، مگر آسٹریلوی اسپنرز نے خاصا دباؤ ڈالا۔ معاملہ آخری اوور تک جا پہنچا۔ جب انگلینڈ کو تین گیندوں پر دو رنز درکار تھے، پیٹ کمنز نے ایک تیز ان سونگر پھینکی، گیند بیٹ سے لگ کر پیڈ سے ٹکرائی، اور آسٹریلیا نے پرزور اپیل کر دی۔ امپائر نے ناٹ آؤٹ دیا، مگر DRS نے دکھایا کہ گیند لیگ اسٹمپ کو ہلکا سا چھو رہی تھی، مگر امپائرز کال برقرار رہی۔ اگلی گیند پر اسٹوکس نے چوکا لگا کر میچ ختم کر دیا۔
یہ وہ مقابلہ تھا جس نے دوبارہ ثابت کیا کہ ایشیز صرف کرکٹ نہیں ، ایک جذباتی روایت ہے۔
بھارت بمقابلہ نیوزی لینڈ (ون ڈے)، ویلنگٹن
بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 287 رنز بنائے۔ شبھمن گل اور سریکر بھرت کی نصف سنچریوں نے بنیاد فراہم کی۔ نیوزی لینڈ نے ہدف کا تعاقب اعتماد سے شروع کیا۔ کھیل کے آخری 10 اوورز تک نیوزی لینڈ بہتر مقام پر تھا اور صرف 52 رنز درکار تھے۔ تب ہی محمد شامی کے دو اوورز نے میچ الٹا دیا۔
آخری اوور میں نیوزی لینڈ کو 12 رنز درکار تھے۔ پہلی گیند پر چوکا لگا، مگر اگلی گیند پر وکٹ گر گئی۔ آخری گیند پر چھکا چاہیے تھا، مگر گیند باؤنڈری سے چند فٹ دور روک لی گئی۔ بھارت تین رنز سے جیت گیا۔
ویلنگٹن کی یہ رات بھارتی بولنگ کے لیے کلاسک کامیابی کی مثال بن گئی۔
ویسٹ انڈیز بمقابلہ پاکستان (ٹی ٹوئنٹی)، پورٹ آف اسپین
یہ T20 مقابلہ فُل انٹرٹینمنٹ تھا۔ پاکستان نے 210 رنز کا بڑا مجموعہ بنایا، بابر اعظم اور آغا سلمان کی ہٹنگ نے شائقین کو دیوانہ کر دیا۔ 210 کا ہدف ویسٹ انڈیز کے لیے مشکل ضرور تھا، مگر ناممکن نہیں۔ فلیچر اور پوران نے 98 رنز کی شاندار پارٹنرشپ بنا کر میچ کو کھول دیا۔
پاکستان کے اسپنرز نے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی، مگر پوران کی چھکوں نے میچ کا بہاؤ یکسر بدل دیا۔ آخری چار اوورز میں 41 رنز درکار تھے۔ شاہین آفریدی نے دو اہم وکٹیں نکال کر میچ کا رخ اپنی ٹیم کی جانب موڑا۔ آخری اوور میں 14 رنز چاہیے تھے۔ پہلی گیند پر چوکا، دوسری پر سنگل، تیسری پر کیچ ڈراپ مگر چوتھی گیند پر ایک شاندار یارکر نے پوران کے اسٹمپ اڑا دیے۔ پاکستان 7 رنز سے جیت گیا۔
یہ میچ T20 کرکٹ میں چھکوں کی جنگ اور بولرز کی واپسی دونوں کی مثال بنا۔
افغانستان بمقابلہ آئرلینڈ (ٹیسٹ)، ابوظہبی
افغانستان کے لیے یہ ٹیسٹ ایک سنگ میل ثابت ہوا۔ پہلی اننگز میں آئرلینڈ نے 278 رنز بنائے، جبکہ افغانستان نے 255 رنز تک رسائی حاصل کی۔ میچ مکمل طور پر متوازن تھا۔ دوسری اننگز میں افغان اسپنر راشد خان نے جادو دکھایا اور 7 وکٹیں لے کر آئرلینڈ کو صرف 166 رنز پر محدود کر دیا۔
افغانستان کو جیت کے لیے 190 رنز درکار تھے۔ چوتھے دن کی خشک وکٹ پر یہ ہدف آسان نہ تھا۔ افغان بیٹنگ ابتدا میں دباؤ میں آئی، مگر ابراہیم زدران کی پراعتماد اننگز نے ٹیم کو سنبھالا دیا۔ 74 رنز کی ان کی اننگز نے پورے میچ کی سمت طے کر دی۔ افغانستان نے چھ وکٹوں سے جیت حاصل کی اور یہ ٹیسٹ ان کے لیے اسپن ٹریننگ کی کلاسک مثال بن گیا۔
انگلینڈ بمقابلہ نیوزی لینڈ (ون ڈے)، لندن
ڈک ورتھ لوئس کے تحت کھیلا گیا یہ میچ غیر معمولی پلٹاؤ کی وجہ سے یادگار بنا۔ اس میچ کو بارش نے متاثر توکیا مگر دلچسپی میں کوئی کمی نہ آئی۔ انگلینڈ نے 30 اوورز میں 220 رنز بنائے۔ بارش کے بعد نیوزی لینڈ کو 28 اوورز میں 205 رنز کا ہدف ملا۔
نیوزی لینڈ نے تعاقب میں تیز آغاز کیا اور کچھ دیر تک مکمل طور پر میچ پر گرفت بنائے رکھی۔ کھیل کا اصل موڑ 46ویں اوور میں آیا، جب کرس ووکس نے دو اہم وکٹیں حاصل کرکے نیوزی لینڈ کو اچانک دباؤ میں ڈال دیا۔ آخری اوور میں 10 رنز درکار تھے، مگر سیم کرن کی یارکرز نے رنز روک دیے۔ نیوزی لینڈ آخری گیند تک مقابلہ کرتا رہا مگر صرف 3 رنز سے میچ ہار گیا۔ یہی سنسنی خیز اختتام اس میچ کو 2025 کا ایک یادگار بارش سے متاثر مقابلہ بناتا ہے۔
یہ مقابلہ نتیجے سے زیادہ تسلسل، حکمت عملی اور دباؤ کے امتحان کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
سڈنی(ٹی ٹوئنٹی) آسٹریلیا بمقابلہ بھارت
یہ میچ جدید T20 حکمت عملی کی بہترین مثال تھا۔ آسٹریلیا نے 184 رنز بنائے۔ بھارت نے آغاز محتاط کیا مگر کوہلی اور پانڈیا نے رفتار بڑھائی۔ 15 اوورز میں بھارت 132 پر تھا اور مضبوط پوزیشن میں دکھائی دیتا تھا۔ تب ہی زمپا کے ایک اوور نے کھیل کا بہاؤ بدل دیا۔
پانڈیا کی وکٹ گری تو بھارت کا مڈل آرڈر دباؤ کا شکار ہو گیا۔ آخری اوور میں 14 رنز درکار تھے، مگر جوش ہیزل وڈ نے لائن اور لینتھ کی بہترین مثال قائم کرتے ہوئے میچ آسٹریلیا کے نام کر دیا۔
یہ T20 مقابلہ بولرز کی بے مثال گرفت کی وجہ سے یاد رکھا گیا۔
بنگلادیش بمقابلہ زمبابوے (ون ڈے) ڈھاکا
بعض اوقات چھوٹے ہدف والے میچ بڑے مقابلوں سے زیادہ دلچسپ ثابت ہوتے ہیں۔ بنگلادیش صرف 188 رنز بنا سکا۔ زمبابوے کے لیے یہ قابلِ حصول ہدف تھا، مگر شکیب اور مہدی حسن کی اسپن جوڑی نے میچ کو نئی سطح پر پہنچا دیا۔
زمبابوے آخری اوور تک مقابلہ کرتا رہا، مگر آخری تین اوورز میں صرف 11 رنز بن سکے۔ جب آخری گیند پر چار رنز چاہیے تھے، شکیب نے فل ٹاس کرایا جو سیدھا مڈ آف کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ بنگلادیش نے 2 رنز سے سنسنی خیز جیت حاصل کی۔
یہ وہ میچ تھا جس نے ثابت کیا کہ کرکٹ میں کبھی بھی چھوٹے اسکور کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔
سال کے 3 شاندار لمحات
سال بھر کئی شاندار کارکردگیاں سامنے آئیں، مگر تین پرفارمنس ایسی تھیں جنہیں شائقین آج بھی یاد رکھتے ہیں:
- بابر اعظم کی کراچی ٹیسٹ میں چوتھی اننگز کی 131 رنز کی اننگز
- راشد خان کی 7 وکٹیں — ٹیسٹ کی کلاسک اسپن ماسٹری
- اسٹیو اسمتھ کے 142 رنز — جارحیت اور ٹیکنیک کا بے مثال امتزاج
سال کا بڑا اپ سیٹ
2025 کا سب سے بڑا اپ سیٹ افغانستان کا آئرلینڈ کے خلاف ٹیسٹ جیتنا قرار دیا گیا۔ ٹیسٹ کرکٹ میں تجربہ، مزاج اور صبر کی اہمیت ہوتی ہے، اور افغانستان کی جیت نے عالمی کرکٹ کو حیران کر دیا۔
2025 کے یہ 10 میچز اس سال کی کرکٹ کا خلاصہ ہیں جذبات، حکمت عملی، فن، غلطیاں، کم بیک، تنازعے اور یادگار لمحات۔ ہر میچ اپنی نوعیت میں منفرد تھا، ہر میدان نے اپنی کہانی سنائی اور ہر ٹیم نے دکھایا کہ کرکٹ آج بھی دنیا کے سب سے دلچسپ کھیلوں میں سے ایک ہے۔







