عالمی سطح پر مقبول ویڈیو پلیٹ فارم کے مستقبل سے جڑا ٹک ٹاک الگورتھم کنٹرول ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جب بائٹ ڈانس نے امریکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ ایک نئے جوائنٹ وینچر کے معاہدوں پر دستخط کر دیے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق اس پیش رفت کے تحت ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کا انتظام ایک نئی جوائنٹ وینچر کمپنی کے سپرد کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں ٹک ٹاک پر ممکنہ پابندی اور چین، امریکا کے درمیان ٹیکنالوجی تنازع مسلسل زیر بحث ہے، تاہم سب سے اہم سوال بدستور ٹک ٹاک الگورتھم کنٹرول سے متعلق ہی ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹک ٹاک کی غیر معمولی عالمی کامیابی کے پیچھے اس کا طاقتور الگورتھم مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ سابق امریکی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اہلکار رش دوشی کا کہنا ہے کہ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ الگورتھم مکمل طور پر منتقل کیا گیا ہے، لائسنس کے تحت دیا گیا ہے یا اب بھی بیجنگ کے کنٹرول میں ہے، جبکہ اوریکل صرف نگرانی کی حد تک شامل ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بائٹ ڈانس ستمبر میں اس بات پر آمادہ ہوا تھا کہ وہ امریکی صارفین کے ڈیٹا، مواد اور الگورتھم کا انتظام جوائنٹ وینچر کے حوالے کرے گا، تاہم اشتہارات اور ای کامرس جیسے آمدنی پیدا کرنے والے شعبے بدستور بائٹ ڈانس کے پاس رہیں گے۔
دلچسپیوں پر مبنی جدید سسٹم
ٹک ٹاک کے الگورتھم کو دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے منفرد بنانے والی خاص بات یہ ہے کہ یہ صارف کے سوشل نیٹ ورک کے بجائے ان کی دلچسپیوں کے اشاروں پر مواد تجویز کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مختصر ویڈیو فارمیٹ نے الگورتھم کو زیادہ تیز اور صارف کی بدلتی ترجیحات کو سمجھنے کے قابل بنا دیا ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق ٹک ٹاک صرف وہی مواد نہیں دکھاتا جو صارف پہلے دیکھ چکا ہو، بلکہ جان بوجھ کر ایسی ویڈیوز بھی تجویز کرتا ہے جو سابقہ دلچسپیوں سے ہٹ کر ہوں۔ ایک امریکی اور جرمن تحقیق کے مطابق 30 سے 50 فیصد ویڈیوز صارف کی براہِ راست دلچسپی سے مختلف ہوتی ہیں، جس کا مقصد صارف کے رویے کو بہتر طور پر جانچنا اور ایپ پر گزارا جانے والا وقت بڑھانا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی حکمتِ عملی ٹک ٹاک کو انسٹاگرام اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر سبقت دیتی ہے، جو مختصر ویڈیو کے شعبے میں نسبتاً بعد میں داخل ہوئے۔








