اسلام آباد : آسٹریلیا نے سری لنکا اور بھارت میں ہونے والے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلئے اسپن باؤلرز پر مشتمل مضبوط اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ قومی سلیکٹرز نے متوقع اسپن فرینڈلی کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکواڈ میں اضافی سلو باؤلنگ آپشنز شامل کیے ہیں، جبکہ ہوبارٹ ہریکینز کے جارح مزاج آل راؤنڈر مچل اوون کو اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا۔
ورلڈ کپ 2021 کی فاتح ٹیم آسٹریلیا نے اس بار لیفٹ آرم فاسٹ باؤلر کو بھی اسکواڈ میں جگہ نہیں دی۔ مچل اسٹارک کے انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی سے ریٹائرمنٹ اور اسپینسر جانسن کی انجری کے باعث سلیکٹرز نے زیویئر بارٹلیٹ کو بین ڈوارشویس پر ترجیح دی۔
اسکواڈ میں کوپر کونولی کی شمولیت کو سب سے حیران کن فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے، جنہوں نے آسٹریلیا کے گزشتہ 12 ٹی ٹوئنٹی میچز میں حصہ نہیں لیا۔ اس کے علاوہ میتھیو شارٹ، میتھیو کونہیمن اور زیویئر بارٹلیٹ کے ورلڈ کپ ڈیبیو کا بھی امکان ہے۔ ایونٹ کا آغاز 7 فروری سے ہوگا۔
آسٹریلیا کا 15 رکنی اسکواڈ
مچل مارش (کپتان)، زیویئر بارٹلیٹ، کوپر کونولی، پیٹ کمنز، ٹم ڈیوڈ، کیمرون گرین، نیتھن ایلس، جوش ہیزل ووڈ، ٹریوس ہیڈ، جوش انگلس، میتھیو کونہیمن، گلین میکسویل، میتھیو شارٹ، مارکس اسٹوئنس، ایڈم زیمپا
پیٹ کمنز کے بیک اسکین کی رپورٹ بعد میں متوقع ہے، جبکہ جوش ہیزل ووڈ اور ٹم ڈیوڈ ہیم اسٹرنگ انجری سے بحالی کے مرحلے میں ہیں۔ آئی سی سی قوانین کے مطابق 31 جنوری تک اسکواڈ میں تبدیلی ممکن ہے۔
اسپن کنڈیشنز کا فائدہ
سری لنکا میں کھیلے جانے والے گروپ میچز میں 43.5 فیصد وکٹیں اسپنرز نے حاصل کی ہیں، جبکہ ان کا اکانومی ریٹ فاسٹ باؤلرز کے مقابلے میں اوسطاً 1.25 رنز کم رہا ہے، جس کے باعث آسٹریلیا نے اسپن اٹیک کو ترجیح دی۔
آسٹریلوی ٹیم ورلڈ کپ سے قبل پاکستان کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز بھی کھیلے گی، جس کیلئے الگ اسکواڈ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین جارج بیلی کے مطابق، ٹیم کا توازن سری لنکا اور بھارت کی کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے اور اہم کھلاڑیوں کی دستیابی پر اعتماد ظاہر کیا گیا ہے۔









