20 کروڑ براڈ بینڈ صارفین، پھر بھی 5G خواب بن گیا

اسلام آباد: دنیا تیزی سے فائیو جی کے دور میں داخل ہو چکی ہے، مگر 24 کروڑ سے زائد آبادی اور 20 کروڑ سے زیادہ براڈ بینڈ صارفین رکھنے والا پاکستان آج بھی اس جدید ٹیکنالوجی کے آغاز کا منتظر ہے۔ حکومتی بے بسی، پالیسی سست روی اور اسپیکٹرم کی شدید قلت کے باعث پاکستان خطے میں ڈیجیٹل ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے، جہاں افغانستان کے سوا تقریباً ہر ملک 5G پر پیش رفت کر چکا ہے۔

پی ٹی اے ذرائع کے مطابق پاکستان اس وقت محض 274 میگا ہرٹز موبائل اسپیکٹرم پر کام کر رہا ہے، جو پورے خطے میں سب سے کم ہے۔ یہ کمی اس وقت مزید سنگین صورت اختیار کر جاتی ہے جب پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا آبادی والا ملک ہے اور یہاں موبائل ڈیٹا استعمال کرنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، مگر انفراسٹرکچر وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے فراہم کیا جانے والا اسپیکٹرم ٹیکنالوجی نیوٹرل ہوتا ہے، جسے 2G، 3G، 4G اور فائیو جی سمیت آئندہ آنے والی ٹیکنالوجیز کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم محدود اسپیکٹرم، بروقت نیلامی نہ ہونے اور فائیو جی ڈیوائسز کی کمی کے باعث عملی پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔

ماہرین کے مطابق فائیو جی صرف تیز رفتار انٹرنیٹ یا اسمارٹ فونز تک محدود نہیں بلکہ یہ انٹرنیٹ آف تھنگز، اسمارٹ سٹیز، خودکار صنعتی نظام، ڈیجیٹل ہیلتھ اور جدید بزنس ماڈلز کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے بروقت فیصلے نہ کیے تو وہ نہ صرف ڈیجیٹل معیشت بلکہ عالمی ٹیکنالوجی ریس میں بھی مزید پیچھے چلا جائے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top