پشاور میں سی ٹی ڈی تھانے کے اندر بارودی مواد پھٹنے سے دھماکا ہوا۔دھماکے کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید اور دو زخمی ہوگئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا تھانے کے اسلحہ خانے میں موجود پرانا بارودی مواد پھٹنے سے ہوا۔ دھماکے کے بعد آگ لگ گئی جو دیگر گولہ بارود تک بھی پھیل گئی۔ جس سے مزید دھماکے ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی بی ڈی یو، ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں ۔ تمام ملزمان کو حوالات سے بحفاظت نکال لیا گیا ۔ سی سی پی او پشاور میاں سعید کے مطابق ابتدائی تجزیے میں یہ واقعہ دہشت گردی کا نہیں لگتا، بلکہ پرانے دھماکا خیز مواد کے اچانک پھٹنے سے پیش آیا ۔ ہوسکتا کہ کسی شارٹ سرکٹ کے باعث باردوی مواد پھٹا ہو۔
انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے باعث ایک سی ٹی ڈی اہلکار شہید اور دو اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں ۔
جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے سی ٹی ڈی ٹیم نے بتایا کہ 2025 میں دہشت گردی کے کیسز کا بارودی مواد تھانے میں پڑا تھا ۔ شارٹ سرکٹ سے تھانے میں پڑے بارودی مواد سے دھماکا ہوا۔ سی ٹی ڈی ٹیم کے مطابق گزشتہ سالوں کا بارودی مواد پہلے سے ہی ختم ہو چکا تھا، تھانے میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز کا جائزہ لے رہے ہیں۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سے پانچ یوم کے اندر اندر تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سے واقعے کی ابتدائی رپورٹ فوری طور پر طلب کرلی۔ انہوں نے واقعے کی وجوہات جاننے اور حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کر دی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ دھماکے میں سی ٹی ڈی اہلکار کی شہادت انتہائی افسوسناک ہے، ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سکیورٹی اور سیفٹی پروٹوکول پر سختی سے عمل کیا جائے۔








