چنے کی فضل

چنے کی فصل سے جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی ناگزیر، محکمہ زراعت

لاہور (سی این پی) چنا ربیع کی ایک اہم اور غذائیت سے بھرپور فصل ہے، جس کی بہتر پیداوار کے لیے جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی اور مناسب آبپاشی نہایت ضروری ہے۔ محکمہ زراعت پنجاب نے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ چنے کی فصل کے ابتدائی مراحل میں مناسب گوڈی اور سفارشات پر عمل کر کے پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے، بالخصوص بارانی علاقوں میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ناگزیر ہے۔

رجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق چنا ربیع کی ایک اہم پھلی دار فصل ہے، جو صوبے میں تقریباً 22 لاکھ ایکڑ رقبے پر کاشت کی جاتی ہے، جبکہ چنے کا تقریباً 92 فیصد رقبہ بارانی علاقوں پر مشتمل ہے۔ ترجمان نے کہا کہ چنے کی فصل میں جڑی بوٹیوں کا بروقت کنٹرول نہ کیا جائے تو پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

محکمہ زراعت کے مطابق پیازی، باتھو، کرنڈ، چھنکنی بوٹی، لیہلی رت، پھلائی، دمبی سٹی اور ریواڑی جیسی جڑی بوٹیاں چنے کی فصل کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں، اس لیے فصل کے آغاز ہی سے جڑی بوٹیوں کی تلفی ضروری ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ جڑی بوٹیوں کی تلفی بذریعہ گوڈی کی جائے، جس میں پہلی گوڈی فصل اگنے کے 30 سے 40 دن بعد اور دوسری گوڈی پہلی گوڈی کے تقریباً ایک ماہ بعد کی جائے

محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق کابلی چنے کے لیے پہلا پانی بوائی کے 60 سے 70 دن بعد اور دوسرا پانی پھول آنے کے مرحلے پر دیا جائے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ دھان کی فصل کے بعد کاشت کیے گئے چنے کو عام طور پر آبپاشی کی ضرورت نہیں ہوتی، جبکہ ستمبر میں کاشت کیے گئے کماد کے کھیتوں میں چنے کی فصل کو کماد کی ضروریات کے مطابق پانی دیا جائے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top