ماسکو: روس میں چین کے سفیر ژانگ ہانہوئی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے تائیوان میں کسی بھی بدنیتی پر مبنی اشتعال انگیزی کا چین بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔ خبر رساں ادارے تاس کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ تائیوان سے متعلق کسی بھی اقدام جو “ریڈ لائن” عبور کرے، وہ لازمی طور پر چین کے سخت ردِعمل کو جنم دے گا۔
ژانگ ہانہوئی نے واضح کیا کہ چین اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی پابندیوں کے خلاف چین کے قومی قانون کے تحت بیجنگ نے حال ہی میں 20 امریکی فوجی صنعتی اداروں اور ان کی اعلیٰ انتظامیہ کے 10 نمائندوں کے خلاف جوابی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے، جو حالیہ برسوں میں تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنے میں ملوث رہے ہیں۔
سفیر نے بتایا کہ 29 دسمبر 2025 سے عوامی جمہوریہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے مشرقی تھیٹر کمانڈ نے “جسٹس مشن 2025” کے نام سے فوجی مشقوں کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ تمام اقدامات تائیوان کی علیحدگی کے حامی عناصر اور بیرونی مداخلت کرنے والی قوتوں کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہیں۔
چینی سفیر نے مزید کہا کہ یہ کارروائیاں ریاستی خودمختاری کے دفاع اور قومی اتحاد کے تحفظ کے لیے جائز اور ناگزیر ہیں، اور چین تائیوان کے معاملے میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔








