چین کے سول سروس امتحان

ایک نوکری، ہزاروں امیدوار: چین کے سول سروس امتحان کی نئی تاریخ رقم

چین میں سرکاری نوکری کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مشکل معاشی حالات نے لاکھوں افراد کو اس سال کے سخت ترین سول سروس امتحان کی طرف دھکیل دیا ہے۔ لوگوں کے لیے سب سے بڑی کشش نوکری کی مستقل سکیورٹی ہے، جسے چین میں ’آہنی پیالہ‘ کہا جاتا ہے۔

اس ہفتے ہونے والے امتحان کے لیے 37 لاکھ سے زیادہ امیدوار رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ یہ تعداد ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اس بار حکومت نے کئی عہدوں کے لیے عمر کی حد بھی بڑھا دی ہے۔ عام امیدوار اب 38 سال تک درخواست دے سکتے ہیں، جبکہ پوسٹ گریجویٹ امیدواروں کے لیے حد 43 سال کر دی گئی ہے۔

ملک بھر میں صرف 38,100 آسامیاں موجود ہیں۔ اس طرح اوسطاً 97 لوگ ایک نوکری کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔ کچھ عہدوں پر یہ مقابلہ بہت سخت ہے۔ مثال کے طور پر یُن نان کے شہر رُوئی لی میں امیگریشن افسر کی ایک جگہ کے لیے 6,470 درخواستیں موصول ہوئیں۔

عمر کی حد میں اضافہ ریٹائرمنٹ پالیسیوں کے مطابق ہے۔ چین بڑھتی عمر کی آبادی اور کمزور پنشن سسٹم کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ اسی لیے حکومت نے پہلی بار 1950 کی دہائی کے بعد ریٹائرمنٹ ایج بتدریج بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اگرچہ سرکاری ملازمتیں زیادہ تنخواہ نہیں دیتیں، پھر بھی لوگ انہیں ترجیح دیتے ہیں۔ وجہ صرف ایک ہے: مستحکم روزگار۔ نجی شعبے میں جاب مارکیٹ کمزور ہو رہی ہے۔ بہت سی کمپنیاں 35 سال سے زائد عمر کے افراد کو ملازمت دینے میں ہچکچاہٹ دکھاتی ہیں، جسے لوگ ’35 کا خطرہ‘ کہتے ہیں۔

چین میں عام بے روزگاری کی شرح 5.1 فیصد ہے۔ نوجوانوں میں یہ شرح 17.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ کورونا کے بعد معاشی دباؤ بڑھا ہے۔ اسی وجہ سے کئی نوجوان ’لائی فلیٹ‘ یعنی کچھ نہ کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اگلے سال 1 کروڑ 27 لاکھ گریجویٹس مارکیٹ میں آئیں گے، جس سے مقابلہ مزید بڑھ جائے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top