ڈاکٹر عبدالقدیر خان ۔۔۔۔ ہمارا قومی فخر

تحریر: ساجد حسین

دنیا کی تاریخ میں ایسے افراد بہت کم پیدا ہوتے ہیں جو نہ صرف اپنی قوم کی تقدیر بدلنے کا ہنر رکھتے ہوں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی علامت بن جائیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں شامل تھے۔ انہوں نے اپنی دانش، بے مثال عزم اور مسلسل محنت کے ذریعے پاکستان کو وہ قوت بخشی جس کی بدولت آج دشمن ملک ہمیں میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کرتا۔

انہیں ’’محسنِ پاکستان‘‘ کہنا صرف ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک ایسا عہد ہے — ایسا اعتراف جو کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہے اور دعاؤں کی صورت میں مسلسل گونجتا رہتا ہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان یکم اپریل 1936ء کو بھارتی شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ اپنے والدین کے ہمراہ کراچی آ گئے۔ کم عمری ہی سے ان کی غیر معمولی صلاحیتیں اور ذہانت نمایاں ہونے لگی تھیں، اور یہی خصوصیات آگے چل کر ان کی شناخت بن گئیں۔

انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے میٹلرجیکل انجینئرنگ میں گریجویشن کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ کا رخ کیا۔ جرمنی، ہالینڈ اور بیلجیم جیسے ممالک میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے انہوں نے نیوکلیئر سائنس اور میٹلرجی کے میدان میں وہ مقام حاصل کیا جو اس وقت دنیا کے چند سائنسدانوں کے پاس تھا۔

 1971 کی جنگِ  کے بعد جب پاکستان کی دفاعی صورتِ حال نازک موڑ پر تھی، تب ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے محسوس کیا کہ پاکستان کے لیے روایتی ہتھیار کافی نہیں۔ اسی دور میں انہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے والے خواب کو حقیقت بنانے کا فیصلہ کیا۔  1974ء میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد انہوں نے خود ہی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو خط لکھا کہ وہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں اپنی خدمات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا۔ بھٹو نے انہیں وطن  واپسی  کی دعوت دی، اور یوں   1975 میں کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کے قیام کے ساتھ پاکستان کے ایٹمی سفر کا آغاز ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا اور جعلی اے آئی ویڈیوز، شناخت کے مؤثر طریقے

کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز (بعد میں ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز) وہ مقام بنا جہاں پاکستان کا دفاعی مستقبل لکھا گیا۔
ڈاکٹر خان کی قیادت میں نوجوان انجینئرز اور سائنسدانوں نے دن رات محنت کی۔ وسائل کی کمی، بین الاقوامی پابندیاں، اور سازشوں کے باوجود انہوں نے حوصلہ نہ ہارا۔
ان کا مشہور جملہ آج بھی گونجتا ہے۔”  “ناممکن کو ممکن بنانا ہی پاکستانی سائنسدان کا کام ہے۔”
 1984ء تک پاکستان نے یورینیم افزودگی کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا تھا، اور 1998ء میں جب بھارت نے ایک بار پھر ایٹمی دھماکے کیے تو پاکستان کے پاس بھرپور جواب دینے کی صلاحیت تھی۔

28 مئی 1998ء کو چاغی کے پہاڑوں میں جب پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کی گونج اٹھی، تو اس کے پیچھے وہی ہاتھ اور ذہن تھا جسے دنیا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام سے جانتی ہے۔
پاکستان کی ایٹمی طاقت نہ صرف ایک فوجی کامیابی تھی بلکہ ایک نفسیاتی فتح بھی تھی۔ بھارت کی برتری کے خواب چکنا چور ہوئے اور جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن قائم ہوا۔ پاکستانی قوم نے پہلی بار خود اعتمادی سے کہا کہ اب کوئی بھی ہماری خودمختاری کو للکار نہیں سکتا۔

یہ ڈاکٹر خان اور ان کی ٹیم کی وہ کامیابی تھی جس نے پاکستان کو اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوت بنا دیا — ایک اسلامی نیوکلیئر پاور جس پر پوری امتِ مسلمہ کو فخر تھا۔
بدقسمتی سے پاکستان میں قومی ہیروز کو وہ مقام ہمیشہ نہیں ملتا جس کے وہ حق دار ہوتے ہیں۔
2004ء میں جب بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر الزامات لگائے گئے کہ انہوں نے ایٹمی معلومات دوسرے ممالک کو فراہم کیں، تو قوم کے لیے یہ لمحہ صدمہ بن گیا۔
انہوں نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی ذمہ داری قبول کر کے ریاست کو مزید دباؤ سے بچایا — لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اعتراف “قومی مجبوری” تھا، نہ کہ قصور کا اقرار۔
بعد کے برسوں میں ان پر سفری پابندیاں لگائی گئیں، میڈیا پر خاموشی چھا گئی، اور وہ گوشہ نشینی میں چلے گئے۔
تاہم عوام کے دلوں میں ان کا مقام ہمیشہ بلند رہا۔  قوم جانتی تھی کہ یہ وہ شخص ہے جس نے اپنی زندگی پاکستان کے دفاع کے لیے وقف کر دی۔

اگرچہ حکومتِ پاکستان نے انہیں نشانِ امتیاز اور ہلالِ امتیاز جیسے اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا، مگر عملی طور پر ان کی خدمات کے اعتراف کا سلسلہ کمزور رہا۔ تعلیمی اداروں، سائنسی مراکز، اور قومی نصاب میں ان کا تذکرہ ہونا چاہیے تھا، مگر بدقسمتی سے یہ ذکر آج بھی محض چند سطروں تک محدود ہے۔
 ڈاکٹر خان محض ایک ایٹمی سائنسدان نہیں تھے بلکہ ایک وژنری لیڈر بھی تھے۔ انہوں نے تعلیم، ریسرچ اور انڈسٹری کے فروغ کے لیے کئی منصوبے شروع کیے۔ ان کے نام سے منسوب اسکول، کالجز اور تحقیقی ادارے آج بھی ان کی خدمات کا ثبوت ہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر پاکستان کو حقیقی ترقی کرنی ہے تو سائنس اور ٹیکنالوجی کو قومی ترجیح بنانا ہو گا۔
 قومیں اپنے ہیروز کی ذاتی زندگی سے بھی سیکھتی ہیں۔ ڈاکٹر خان اپنی سادہ زندگی، عاجزی اور خدمتِ خلق کے جذبے سے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے کبھی دولت یا شہرت کو ترجیح نہیں دی۔ ان کے قریبی لوگوں کے مطابق وہ ہمیشہ یہی کہتے تھے:
“میری سب سے بڑی دولت میرا ملک ہے۔”

10 اکتوبر 2021ء کو یہ عظیم محسن ہمیشہ کے لیے ہم سے رخصت ہو گیا۔ اسلام آباد میں ان کا جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کیا گیا۔ قوم کے ہر طبقے نے غم اور فخر کے جذبات کے ساتھ انہیں الوداع کہا۔  مگر ان کی وفات کے بعد یہ سوال آج بھی زندہ ہے۔ کیا ہم نے اپنے محسن کو وہ مقام دیا جس کے وہ مستحق تھے؟
 2025 ء میں جب ان کی چوتھی برسی آئی، تو ایک بار پھر یہ قوم سوال کرتی نظر آئی کہ کہاں ہیں وہ حکمران جنہوں نے ان کے نام پر سیاست کی؟ نہ کوئی بڑی سرکاری تقریب، نہ کوئی قومی سطح کا پروگرام، نہ ہی ان کے کارناموں کو یاد کرنے کی سنجیدہ کوشش۔
قوم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عوامی سطح پر تو انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا  مگر حکومت کی خاموشی نے ایک بار پھر ہمارے اجتماعی رویے کو بے نقاب کر دیا۔ ایک ایسا شخص جس نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، جس کے دم سے ملک کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہوا، اس کی برسی پر سرکاری بے حسی ہمارے اجتماعی کردار پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ لوگ اور واقعات تاریخ کے صفحات میں دھندلا جاتے ہیں، مگر محسنِ پاکستان کا نام ہمیشہ روشن رہے گا۔
آنے والی نسلوں پر یہ قرض ہے کہ وہ جانیں کہ آج کی آزادی، خودمختاری اور سلامتی کسی ایک شخص کے عزم، جذبے اور محنت کا نتیجہ ہے۔
حکومتوں کا فرض ہے کہ ان کی خدمات کو قومی نصاب کا حصہ بنایا جائے، ان کے نام سے سائنسی ادارے قائم کیے جائیں، اور ان کی برسی کو قومی سطح پر یادگار دن کے طور پر منایا جائے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا،  میں نے اپنی زندگی پاکستان کے لیے وقف کی، میری خواہش ہے کہ یہ ملک تعلیم اور سائنس میں دنیا کا سر فخر سے بلند کرے۔

آج جبکہ ان کی چوتھی برسی گزر گئی، یہ سوال ہم سب کے سامنے ہے۔ کیا ہم نے ان کے خواب کو حقیقت بنانے کی کوشش کی؟ کیا ہم نے اپنے اس محسن کو وہ عزت دی جو ایک ایٹمی قوم کے بانی کے شایانِ شان تھی؟ اگر نہیں، تو شاید ہم اب بھی اپنے محسنوں کے ساتھ انصاف نہیں کر رہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top