ہالی وڈ اسٹار کرسٹین اسٹیورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اداکاری بنیادی طور پر ’’غیر مردانہ‘‘ اور ’’انتہائی حساس‘‘ عمل ہے، جبکہ مرد اداکار اسے طاقتور دکھانے کے لیے ’’میتھڈ ایکٹنگ‘‘ کا سہارا لیتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے مارلن برینڈو کی 1978 کی فلم سپر مین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا لفظ “Krypton” ٹھیک سے ادا نہ کر پانا ’’تکلیف دہ‘‘ لگا۔ کرسٹین کے مطابق، کسی اور کی سوچ کو اپنی آواز دینا بذاتِ خود ایک ’’غیر مردانہ‘‘ فن ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرد اداکار اپنی ’’اصل کمزوری‘‘ چھپانے کے لیے کردار میں حد سے زیادہ خود کو ڈبو دیتے ہیں، جبکہ اگر یہی کوئی خاتون کرے تو اسے ’’پاگل‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘‘کیا آپ نے کبھی کوئی ایسی خاتون اداکارہ دیکھی ہے جو میتھڈ ایکٹنگ میں اتنی شدت اختیار کرے؟’’
اداکارائیں تو پاگل ہوتی ہیں
میتھڈ ایکٹنگ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ تکنیک اسٹانسلاوسکی سے شروع ہو کر 1947 میں ایکٹرز اسٹوڈیو تک پہنچی، جہاں کئی ممتاز اداکاروں نے اسے اپنایا۔ اسٹیورٹ نے کہا کہ مرد اداکاروں کے لیے یہ عمل ’’طاقت کا تاثر‘‘ پیدا کرتا ہے، لیکن کسی خاتون کی وہی محنت ’’عدم توازن‘‘ سمجھ لی جاتی ہے۔
ان کے مطابق، اگر کوئی مرد اداکار سین سے پہلے پُش اَپس کرے یا ڈائیلاگ کسی مخصوص انداز میں بولنے پر اصرار کرے تو اسے ’’فن‘‘ کہا جاتا ہے، مگر کسی خاتون کا ایسا کرنا فوراً ‘‘کریزی’’ قرار دیا جاتا ہے۔
کرسٹین نے کہا کہ جب وہ ایک ساتھی اداکار سے اس تضاد پر بات کر رہی تھیں تو اس نے فوراً کہا کہ ‘‘اداکارائیں تو پاگل ہوتی ہیں۔’’ اسٹیورٹ کے بقول، ‘‘اس نے لاشعوری طور پر مجھے بھی پاگل کہہ دیا، حالانکہ وہ خود میری بات سن ہی نہیں رہا تھا۔’’








