سندھ کے ضلع گھوٹکی کے علاقے ڈھرکی میں موٹر وے ایم فائیو پر مسافر کوچ پر ہونے والا مسلح حملہ ایک بار پھر امن و امان کی صورتحال پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ رات گئے پیش آنے والے اس واقعے میں فائرنگ، تشدد اور اغوا کے واقعات نے مسافروں کو شدید خوف میں مبتلا کر دیا، جبکہ سیکیورٹی اداروں نے فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
پولیس کے مطابق مرید شاخ انٹرچینج ایم فائیو کے قریب مسلح ڈاکوؤں نے کوئٹہ جانے والی مسافر بس کو نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں نے کوچ پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ڈرائیور سمیت متعدد مسافر زخمی ہو گئے۔ فائرنگ کے باعث بس کو زبردستی روکا گیا، جس کے بعد مسافروں کو بس سے اتار کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بس رکنے کے بعد مسلح ڈاکو 25 مسافروں کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔ اغوا کے بعد حملہ آور قریبی علاقوں کی طرف فرار ہو گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور ملزمان کا تعاقب شروع کر دیا گیا۔
پولیس اور رینجرز کا سرچ آپریشن
عینی شاہد مسافروں نے بتایا کہ ڈاکوؤں نے نہ صرف مسافر کوچ بلکہ دیگر گاڑیوں میں سوار افراد کو بھی لوٹا۔ مسلسل فائرنگ کے باعث بیشتر مسافر خوف کے عالم میں کماد کی فصل میں چھپ کر جان بچاتے رہے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق اغوا کیے گئے مسافروں کو بھی کماد کے کھیتوں کی طرف لے جایا گیا ہے۔
ڈھرکی پولیس کا کہنا ہے کہ اغوا ہونے والے مسافروں کی حتمی تعداد کے بارے میں تصدیق کا عمل جاری ہے۔ سندھ پولیس کے ذرائع کے مطابق علاقے میں سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ تھانہ ماچھکہ کی پولیس نفری کے ساتھ موٹر وے پولیس کو بھی جائے وقوعہ پر طلب کر لیا گیا ہے تاکہ ملزمان کو جلد گرفتار کیا جا سکے۔









