گلوبل اسمارٹ واچ مارکیٹ اس سال دوبارہ ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ رواں برس فروخت میں مجموعی طور پر 7 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ کاؤنٹرپوائنٹ ریسرچ کے مطابق اس ترقی میں ہواوے اور ایپل کا اہم کردار ہے۔ دونوں برانڈز صارفین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور مارکیٹ کی قیادت کر رہے ہیں۔
ہواوے 2025 کی تیسری سہ ماہی میں سالانہ بنیادوں پر 42 فیصد فروخت اضافے کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ کمپنی کا عالمی مارکیٹ شیئر 18 فیصد تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 فیصد زیادہ ہے۔
ہواوے کی مضبوط کارکردگی
تجزیے کے مطابق 2024 اور 2025 میں چین اسمارٹ واچ شپمنٹس کے لحاظ سے سب سے بڑی مارکیٹ بن چکا ہے۔ عالمی شپمنٹ کا 31 فیصد حصہ چین سے تعلق رکھتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہواوے، شیاؤمی اور ایمو (Imoo) کی مقامی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت نے چین کو عالمی اسمارٹ واچ مارکیٹ میں نمایاں مقام دلایا۔
کاؤنٹرپوائنٹ کی سینئر اینالسٹ انشیکا جین کے مطابق حکومتی سبسڈی پروگرامز نے صارفین کو نئی ڈیوائسز اپ گریڈ کرنے پر آمادہ کیا۔ اس کے ساتھ ہواوے، شیاؤمی اور ایمو نے اپنی منفرد حکمت عملیوں سے صارفین کی دلچسپی برقرار رکھی۔
چین سب سے بڑی مارکیٹ
ایپل عالمی سطح پر پہلے نمبر پر رہا۔ کمپنی کی فروخت میں 12 فیصد اضافہ ہوا اور اس نے 23 فیصد مارکیٹ شیئر حاصل کیا۔ شیاؤمی تیسرے نمبر پر رہا، جس کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 22 فیصد اضافہ ہوا اور مارکیٹ شیئر 9 فیصد تک پہنچ گیا۔
دوسری جانب سام سنگ کی اسمارٹ واچ شپمنٹس میں 6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ کمپنی کا مارکیٹ شیئر بھی 1 فیصد کم ہوا۔ اس کے برعکس ایمو نے 17 فیصد سالانہ ترقی کے ساتھ 7 فیصد مارکیٹ شیئر حاصل کیا۔
ایپل پہلے نمبر پر
کاؤنٹرپوائنٹ کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ڈیوڈ نارنجو کے مطابق 2024 میں کمی کے بعد 2025 کے اختتام تک عالمی اسمارٹ واچ شپمنٹس میں 7 فیصد سالانہ اضافہ متوقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سال اسمارٹ واچ انڈسٹری میں فیچر بیسڈ جدت دیکھنے میں آئی۔ اے آئی، 5جی، سیٹلائٹ کمیونیکیشن اور جدید ٹیکنالوجیز نے صارفین کی دلچسپی میں واضح اضافہ کیا۔








