گھر کی غیرمرئی محنت

گھر کی غیرمرئی محنت ، عورت کی زندگی کا سب سے بڑا بوجھ

تحریر: ام مریم

پاکستانی معاشرت میں گھریلو ذمہ داریاں اکثر اتنی معمول کی سمجھی جاتی ہیں کہ ان کی محنت نظر ہی نہیں آتی۔ یہ وہ محنت ہے جسے یورپی تحقیق میں “Invisible Labour” اور اردو میں “غیر مرئی گھریلو محنت” کہا جاتا ہے۔ یہ وہ کام ہے جو عورت صبح آنکھ کھلنے کے بعد رات سونے تک کرتی ہے: کھانا پکانا، برتن دھونا، گھر کی صفائی، بچوں کی دیکھ بھال، بیمار بزرگوں کی تیمارداری، بازار کے چھوٹے موٹے کام، اسکول کی ذمہ داریاں، خاندان کی دیکھ بھال، اور جذباتی سہارا دینا۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنا وسیع اور تھکا دینے والا کام نہ معاشی طور پر شمار ہوتا ہے، نہ سماجی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہی اس فیچر کا بنیادی سوال ہے: آخر گھر چلانے والا سب سے اہم پہیہ ہی سب سے نظرانداز کیوں ہے؟

پاکستان میں تقریباً 80 فیصد خواتین کسی نہ کسی شکل میں گھریلو محنت کرتی ہیں مگر ان کی یہ محنت نہ کسی آمدن میں لکھی جاتی ہے، نہ کسی سرکاری ڈیٹا میں۔ عالمی ادارہ محنت (ILO) کے مطابق خواتین دنیا بھر میں مردوں سے تین گنا زیادہ Care Work کرتی ہیں، جبکہ پاکستان میں یہ شرح اور بھی زیادہ ہے۔ اگر گھریلو کام کو اجرت میں تبدیل کیا جائے تو ماہرین کے مطابق یہ پاکستان کے مجموعی قومی معاشی آؤٹ پٹ (GDP) میں کم از کم 20 سے 30 فیصد اضافہ کر سکتا ہے۔ یہ وہ قدر ہے جو ہر روز لاکھوں پاکستانی خواتین مُفت میں ملک اور گھر دونوں کو دے رہی ہیں۔

ہر گھر کی کہانی

گھر کی غیر مرئی محنت کا سب سے بڑا بوجھ اُس لمحے سمجھ آتا ہے جب ایک عام پاکستانی گھر کی صبح شروع ہوتی ہے۔ عورت سب سے پہلے اٹھتی ہے، چائے بناتی ہے، ناشتے کی تیاری کرتی ہے، بچوں کو تیار کرتی ہے، کپڑے فولڈ کرتی ہے، گھر سمیٹتی ہے، کھانا پکاتی ہے، برتن دھوتی ہے، اور اس کے بعد دن کے درجنوں چھوٹے بڑے کام اس کے انتظار میں ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ کسی ایک عورت کی نہیں، پاکستان کی ہر گھر کی کہانی ہے۔

ورکنگ ویمن کے لیے یہ بوجھ دوگنا ہو جاتا ہے۔ وہ دفتر میں آٹھ سے دس گھنٹے کام کرنے کے بعد جب گھر لوٹتی ہیں تو انہیں ایک دوسرا کام شروع کرنا پڑتا ہے۔ عالمی تحقیق اسے “Double Burden” یا “دہرا بوجھ” کہتی ہے، اور پاکستانی خواتین اس جملے کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔ دفتر کی تھکن کے باوجود انہیں کھانا بھی بنانا ہوتا ہے، بچوں کا ہوم ورک بھی دیکھنا ہوتا ہے، گھر کے معاملات بھی سنبھالنے ہوتے ہیں۔ معاشی طور پر گھر میں سب شریک ہوتے ہیں مگر گھریلو ذمہ داریوں میں عورت اکیلی کھڑی نظر آتی ہے۔

سب سے بڑا نقصان

گھریلو محنت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس کا اثر عورت کی صحت، ذہنی سکون، آمدن اور زندگی کے انتخاب پر براہِ راست پڑتا ہے۔ وقت کی کمی کے باعث وہ کوئی ہنر نہیں سیکھ پاتیں، کہیں آ جا نہیں سکتیں، اپنی مرضی سے کوئی ملازمت یا کاروبار نہیں کرتیں، حتیٰ کہ کئی عورتیں صرف گھر کی ذمہ داریوں کی وجہ سے اپنے تعلیمی خواب بھی ادھورے چھوڑ دیتی ہیں۔ اسی طرح معاشرتی سوچ بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کرتی ہے۔ خواتین کی محنت کو “فرض” سمجھ لیا گیا ہے، جبکہ مردانہ معاونت کو “مدد” کہا جاتا ہے اور یہ معنی کا اتنا بڑا فرق ہے کہ پورا نظام بدل دیتا ہے۔

پاکستان میں خواتین کی زندگی میں غیر مرئی محنت کا ایک بڑا حصہ Care Work ہے، یعنی بچوں، بیمار افراد اور بزرگوں کی دیکھ بھال۔ یہ کام کبھی رکتا نہیں، کبھی چھٹی نہیں لیتا، اور کبھی شکایت کا موقع نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ ذہنی دباؤ، تھکاوٹ، نیند کی کمی، اور صحت کے مسائل خواتین میں زیادہ ہوتے ہیں۔ صحت کے ماہرین کے مطابق گھریلو محنت کو “نوکری” کی طرح منظم نہ ہونے کے باعث خواتین دن بھر بریک کے بغیر کام کرتی ہیں، جس کا نتیجہ مسلسل ذہنی دباؤ کی صورت نکلتا ہے۔

گھریلو کام کو “محنت” نہیں سمجھا جاتا

اس پورے منظرنامے کا معاشی پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے۔ چونکہ گھریلو کام کو “محنت” نہیں سمجھا جاتا اس لیے خواتین کی یہ صلاحیت معاشی نظام میں شمار نہیں ہوتی۔ عالمی اداروں کی رپورٹس یہ بتاتی ہیں کہ اگر Care Work کو اجرت دی جائے تو دنیا کی معیشت کا نقشہ بدل جائے۔ پاکستان میں تو یہ اثر اور بھی گہرا ہے۔ دیہی علاقوں میں عورتیں محض گھر کے کام نہیں کرتیں بلکہ کھیتوں میں بھی مردوں کے ساتھ کام کرتی ہیں، جانوروں کی دیکھ بھال کرتی ہیں، دودھ، مکھن، لسی، سبزی، راشن، ہر چیز میں بھرپور کردار ادا کرتی ہیں، مگر ان کا نام کہیں نہیں آتا۔

پاکستان میں اس وقت مختلف تنظیمیں، خواتین کا تحفظ کرنے والے ادارے، اور معاشی ماہرین اس بات کی وکالت کر رہے ہیں کہ گھریلو محنت کی معاشی قدر (Economic Value) کو تسلیم کیا جائے۔ کچھ ممالک جیسے اسپین، کینیڈا اور نیوزی لینڈ میں گھریلو کام کو پالیسی سطح پر تسلیم کیا جا چکا ہے، جبکہ ہمارے معاشرے میں ابھی یہ بحث آغاز پر ہے۔ پاکستان میں سندھ اسمبلی نے دو سال قبل Care Workers کے حقوق پر ایک اہم مسودہ پیش کیا تھا، مگر اس پر مزید کام ہونا باقی ہے۔

گھر کی غیر مرئی محنت کو نمایاں کرنے کے لیے سب سے پہلا قدم گھر کے اندر ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم ہے۔ یہ سوچ تبدیل کرنا ہوگی کہ گھر کا کام صرف عورت کا نہیں، بلکہ گھر کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر مرد اور بچے روزمرہ کاموں میں حصہ لیں تو عورت کا بوجھ کم ہوگا، اس کی معاشرتی حیثیت مضبوط ہوگی، اور وہ زیادہ بااختیار زندگی جی سکے گی۔

حکومتی سطح پرممکنہ اقدامات :

خواتین کے لیے ہوم بیسڈ ورک کو قانونی تحفظ دینا، Care Work کو سماجی اور معاشی نظام میں شامل کرنا، خواتین کے لیے موقعوں کی مساوی فراہمی، اور گھریلو ملازمین کے حقوق کی بہتری — یہ سب ضروری اقدامات ہیں جو “انویسبل لیبر” کو مرئی اور قدر کے قابل بنا سکتے ہیں۔

معاشرتی سطح پر تبدیلی سب سے بنیادی تقاضا ہے۔ جب تک مرد گھریلو ذمہ داریوں کو اپنا حصہ نہیں سمجھیں گے، جب تک خواتین کو “گھر کا ستون” تو مانا جائے گا مگر “گھر کی محنت” کو نہیں — تب تک یہ مسئلہ اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود رہے گا۔ تبدیلی تب آئے گی جب گھریلو کام کو “محبت” کے ساتھ ساتھ “محنت” بھی مانا جائے گا۔

اہم حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت:

گھر چلانے کے لیے جتنا کام نظر آتا ہے، اس سے دس گنا زیادہ کام وہ ہے جو نظر نہیں آتا اور یہ سب عورت کرتی ہے۔ اسی لیے گھریلو محنت کی پہچان نہ صرف عورت کے انصاف کا معاملہ ہے، بلکہ معاشرے کی مجموعی خوشحالی کا بھی۔ جب تک ہم گھریلو محنت کو “کام” نہیں مانیں گے، تب تک عورت کی محنت، اس کی صحت، اس کا وقت اور اس کی زندگی سب غیر مرئی رہیں گے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top