جنوبی کوریا کے معزول سابق صدر یون سوک یول کو پانچ سال قید کی سزا

سیول : جنوبی کوریا کی عدالت نے معزول سابق صدر یون سوک یول کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور قانونی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے مقدمے میں پانچ سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ یہ فیصلہ ان متعدد مقدمات میں پہلا ہے جو ان کے متنازع مارشل لا کے اعلان سے متعلق دائر کیے گئے تھے۔

سیول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ یون سوک یول نے اپنی صدارتی حیثیت کا غلط استعمال کرتے ہوئے سکیورٹی اہلکاروں کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا، گرفتاری کے وارنٹس پر عملدرآمد میں رکاوٹ ڈالی اور سرکاری دستاویزات میں رد و بدل کیا۔ عدالت نے ایک الزام سے انہیں بری کر دیا جس میں بین الاقوامی میڈیا کو گمراہ کن معلومات فراہم کرنے کا الزام شامل تھا۔

عدالت کے مطابق سابق صدر نے تحقیقاتی اداروں کی قانونی کارروائی کو روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز کا استعمال کیا اور شواہد ضائع کرنے کی کوشش کی، جو ریاستی اختیارات کا سنگین غلط استعمال ہے۔ یون سوک یول کے وکلا نے فیصلے کو سیاسی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سزا آئندہ ماہ بغاوت کے مقدمے کے فیصلے کا پیش خیمہ

یہ مقدمہ دسمبر 2024 میں یون سوک یول کی جانب سے اچانک مارشل لا نافذ کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا، جسے قومی اسمبلی نے ہنگامی ووٹنگ کے ذریعے مسترد کر دیا تھا۔ اس اقدام کے خلاف ملک بھر میں شدید احتجاج ہوا اور چند ہی دن بعد پارلیمنٹ نے انہیں معزول کر دیا، جس کی توثیق آئینی عدالت نے بھی کر دی۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ سزا آئندہ ماہ بغاوت (Insurrection) کے سنگین مقدمے کے فیصلے کا پیش خیمہ ہے، جس میں سابق صدر کو عمر قید یا سزائے موت کا سامنا بھی ہو سکتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا میں سزائے موت پر عملدرآمد کا امکان نہایت کم ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top