روس کے ساتھ جنگ بندی کیلئے یوکرین کا 20 نکاتی امن منصوبہ

کیف: یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روس کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے 20 نکاتی امن منصوبہ کا مسودہ پیش کر دیا ہے۔ تاس کے مطابق یوکرینی صدر نے بدھ کے روز صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسودہ بڑی حد تک یوکرین اور امریکا کے مشترکہ مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، تاہم کئی اہم امور پر اب بھی اتفاق رائے باقی ہے۔

امن منصوبے کی سب سے متنازع شق زیپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ سے متعلق ہے، جو اس وقت مکمل طور پر روسی افواج کے کنٹرول میں ہے۔ یوکرینی حکومت چاہتی ہے کہ اس پلانٹ کو یوکرین اور امریکا مشترکہ طور پر 50،50 فیصد کی بنیاد پر چلائیں، جبکہ امریکی تجویز کے مطابق اس انتظام میں روس کو بھی شامل کیا جائے گا۔

منصوبے میں ایک آپشن کے تحت روسی افواج کو خارکوف، دنیپروپیٹروسک، سومی اور نکولائیف کے علاقوں سے انخلا کرنا ہوگا، جبکہ ڈونیٹسک، لوگانسک، زاپوروزئے اور کھیرسون میں موجودہ فرنٹ لائنز پر جنگ کو منجمد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

نیٹو سے سکیورٹی ضمانت کا مطالبہ

امن فریم ورک کے مطابق یوکرین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امن کے دور میں بھی 8 لاکھ اہلکاروں پر مشتمل مسلح افواج برقرار رکھے، حالانکہ زیلنسکی اس سے قبل اعتراف کر چکے ہیں کہ مغربی مالی مدد کے بغیر یہ بوجھ اٹھانا مشکل ہوگا۔

صدر زیلنسکی نے امریکا، نیٹو اور یورپی ممالک سے آرٹیکل 5 جیسی حفاظتی ضمانتوں کا مطالبہ بھی کیا ہے، جس کے تحت جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں مغربی فوجی ردعمل یقینی بنایا جائے۔ اس تجویز میں یوکرین کے غیر جوہری ملک رہنے، یورپی یونین کی رکنیت میں تیزی اور 800 ارب ڈالر تک تعمیر نو فنڈز کی امید کا بھی ذکر ہے۔

زیلنسکی کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد جلد انتخابات کرائے جائیں گے۔ روسی حکومت کا کہنا ہے کہ امن معاہدے کے لیے یوکرینی حکومت کا جائز ہونا ضروری ہے، جبکہ یوکرینی منصوبے کے تحت تمام فریقین کے فریم ورک پر متفق ہونے کے بعد ہی مکمل جنگ بندی ممکن ہوگی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top