اسلام آباد: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی، وزارت منصوبہ بندی اور این ڈی ایم اے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے مربوط منصوبہ سازی کریں۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے ہدایت کی آئندہ برس مون سون کے نقصانات سے بچاؤ کے لیے ابھی سے حفاظتی تیاریاں کی جائیں ۔
وزیرِ اعظم کی زیر صدارت موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچاؤ کی حکومتی حکمت عملی پر جائزہ اجلاس بدھ کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم نے پانی کے بہتر انتظام کے لیے قومی سطح پر منصوبہ سازی کے لیے نیشنل واٹر کونسل کے اجلاس کی تیاری کی بھی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں بڑھتی مہنگائی، گھریلو بجٹ بچانے کے 7 آسان طریقے
وزیرِ اعظم نے پیش کردہ قلیل مدتی منصوبے کی منظوری دی اور فوری عملدرآمد کا حکم دیا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، ڈاکٹر مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کو آئندہ برس مون سون کے حوالے سے عالمی اشاریوں پر بریفنگ دی گئی اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے قلیل، وسط اور طویل مدتی منصوبوں پر بھی تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان ترقی پذیر ملک ہے اور ہر تیسرے سال موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات پر جی ڈی پی کا خاطر خواہ حصہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیمتی و محدود وسائل ترقی کی بجائے موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچاؤ پر استعمال ہوتے ہیں اور پاکستان جس کا موسمیاتی تبدیلی میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے، اس کے اثرات کی لپیٹ میں ہے۔









