لاہور: پنجاب کے دورے پر آئے ایک اعلیٰ سطحی چینی وفد نے صوبے میں جدید زرعی مشینری بنانے کے کارخانے لگانے کا اعلان کیا ہے۔ مقامی طور پر تیار کی جانے والی یہ مشینری کسانوں کی قوتِ خرید کے مطابق ہوگی اور پنجاب کی ضرورتوں کے مطابق ڈیزائن کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ان مصنوعات کو مستقبل میں برآمد بھی کیا جائے گا۔
یہ اعلان زرعی محکمے کے افسران کے ساتھ اجلاس میں کیا گیا، جس میں سیکرٹری ایگریکلچر پنجاب افتخار علی سہو، سیکرٹری لائیوسٹاک احمد عزیز اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں چینی کمپنیوں اور محکمہ زراعت کے درمیان قائم ورکنگ گروپس کی کارکردگی کا جائزہ بھی لیا گیا۔
افتخار علی سہو نے کہا کہ چین کے دورے کے دوران پانچ اہم ایم او یوز پر دستخط ہوئے جن میں سیٹلائٹ بیسڈ کراپ مانیٹرنگ، کپاس کی بحالی، بیجوں پر تحقیق و ترقی، سینٹر آف ایکسیلنس کا قیام اور ہائی ٹیک میکانائزیشن پروگرام شامل ہیں۔ ان معاہدوں پر عملدرآمد کی سفارشات مکمل کر لی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ہائی ٹیک زرعی مشینی کاری کا وسیع امکان موجود ہے اور وزیرِ اعلیٰ کے ویژن کے مطابق چین کا تعاون اس عمل کو تیز کرے گا۔ صوبائی حکومت جدید زرعی مشینری تیار کرنے والی چینی کمپنیوں کو مکمل سہولت فراہم کرے گی۔
چینی وفد کے مطابق پنجاب میں چین کے زرعی ماڈل کو اپنانے کے لیے عملی اقدامات شروع ہو چکے ہیں اور زرعی میکانائزیشن کے شعبے میں مزید تعاون بڑھایا جائے گا۔









