ہانگ کانگ کے رہائشی علاقے میں لگی شدید آگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 128 ہو گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ہانگ کانگ آگ سانحہ کی تحقیقات شروع۔ سیکریٹری برائے سیکیورٹی کرس ٹینگ نے جمعہ کو پریس کانفرنس میں مرنے والوں کے لواحقین سے تعزیت کی۔
بدھ کی دوپہر ٹائی پو کے وانگ فک کورٹ ہاؤسنگ اسٹیٹ میں آگ نے آٹھ میں سے کئی بلند عمارتوں کو چند ہی منٹوں میں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ آگ 40 گھنٹوں سے زیادہ بھڑکتی رہی اور جمعہ کی صبح اسے بڑی حد تک بجھا دیا گیا۔
حکام آگ کی وجہ جاننے کے لیے عمارتوں پر لگے بانس کے اسکیفولڈنگ اور پلاسٹک میش کا معائنہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ فلیٹس میں ریسکیو ٹیمیں مسلسل لاشیں نکالتی رہیں، جبکہ قریبی مردہ خانے میں درجنوں لاشیں منتقل کی گئیں۔
جمعہ تک 50 سے زائد افراد اسپتالوں میں زیرِ علاج تھے، جن میں 12 کی حالت نازک بتائی گئی۔ کئی خاندان اب بھی اپنے پیاروں کو تلاش کر رہے ہیں۔ کئی گھنٹے تلاش کے باوجود مسز وانگ اپنی دو گمشدہ رشتہ داروں کے بارے میں کچھ نہ جان سکیں۔
بزرگ عینی شاہدوں کے مطابق، “ایک عمارت میں آگ لگی اور 15 منٹ کے اندر دو اور بلاکس تک پھیل گئی۔ سب کچھ آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔”
یہ آتشزدگی 1948 کے بعد ہانگ کانگ کی مہلک ترین سانحہ قرار دی جا رہی ہے۔ حکومت نے صفائی اور تعمیراتی بے ضابطگیوں کے شبہ میں تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ رہائشیوں نے دعویٰ کیا کہ فائر الارم کام نہیں کررہے تھے، جس کے باعث لوگوں نے خود دروازہ کھٹکھٹا کر لوگوں کو خبردار کیا۔
ہانگ کانگ انتظامیہ نے پورے شہر میں جاری تعمیراتی کاموں کی فوری جانچ کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ متاثرین کی مدد کیلئے HK$300 ملین کا فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ متعدد رہائشیوں کو عارضی پناہ گاہیں فراہم کر دی گئیں۔
ادھر مقامی کمیونٹی نے بھی شاندار یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ عوام نے کپڑوں، خوراک اور ضروری سامان کے اسٹیشن قائم کیے جو چند گھنٹوں میں بھر گئے۔ امدادی کارکنوں کے مطابق، “جب کوئی مشکل میں ہوتا ہے، ہانگ کانگ کے لوگ سب سے پہلے مدد کو کھڑے ہوتے ہیں۔”









