سری لنکا، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈز نے لاکھوں لوگوں کی زندگی مشکل کر دی ہے۔ تینوں ممالک میں ہلاکتیں 200 سے تجاوز کر گئی ہیں، گھروں اور بنیادی ڈھانچوں کو نقصان پہنچا ہے، اور ریسکیو ٹیمیں شدید موسم کے باوجود متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
سری لنکا میں 10 دن کے دوران شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈز کے نتیجے میں کم از کم 56 افراد ہلاک اور 21 لاپتہ ہیں۔ شدید بارش اور بڑھتے پانی نے ملک کے متعدد اضلاع میں زندگی درہم برہم کر دی ہے۔
ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 14 افراد زخمی ہیں جبکہ 17 اضلاع میں 43,991 سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ صدر انورا کمارا ڈیسنائے نے 20,000 فوجی تعینات کر کے امدادی کوششیں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ باتیکالوا ضلع میں 300 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ آٹھ خطرناک اضلاع کے لیے لینڈ سلائیڈز کا ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
انڈونیشیا کے سماترا جزیرے میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈز نے کم از کم 62 افراد ہلاک کر دیے اور ہزاروں کو بے گھر کر دیا ہے۔ شمالی سماترا سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں 37 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوئے۔ بنیر میریا ضلع میں 13 افراد ہلاک اور 12 لاپتہ ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں بجلی اور رابطے معطل ہیں، جس سے امدادی کارروائیاں مشکل ہو گئی ہیں۔
تھائی لینڈ کے جنوبی صوبوں میں بھی تباہی جاری ہے۔ حکومتی بیان کے مطابق ہلاکتیں 87 ہو گئی ہیں اور ایک ملین سے زیادہ گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ 105 اضلاع میں شدید سیلاب جاری ہے اور 2.9 ملین سے زیادہ افراد متاثر ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں فوری مدد، خوراک، پانی اور عارضی رہائش فراہم کر رہی ہیں۔ پرائم منسٹر نے سونگ کھلا میں ایمرجنسی نافذ کر کے رائل آرمی کو ہنگامی اقدامات کی قیادت سونپی ہے۔









