پاکستان میں اشیائے خورد ونوش میں ملاوٹ عام ہو چکی

اشیائے خورد ونوش میں خطرناک ملاوٹ، ہر گھر تک پہنچنے والا خاموش زہر

تحریر : ساجد حسین

پاکستان میں کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ اب صرف اخلاقی برائی نہیں رہی بلکہ صحت کے لیے ایسا خاموش زہر بن چکی ہے جو ہر گھر تک رسائی حاصل کر چکا ہے۔ دودھ سے لے کر مصالحوں تک، گھی سے شہد تک، اور گوشت سے تیار شدہ خوراک تک، کہیں بھی خالص اور محفوظ خوراک ملنا عام شہری کے لیے ایک انہونی بات بنتی جا رہی ہے۔ حالیہ مہنگائی، کمزور نگرانی اور غیر منظم مارکیٹ نے اس مسئلے کو ایک سنگین بحران میں تبدیل کر دیا ہے، جس پر نہ صرف حکومت اور اداروں کو فوری توجہ دینا ناگزیر ہو چکا ہے بلکہ معاشرے کی سطح پر بھی بیداری انتہائی ضروری ہے۔

ملک میں سب سے زیادہ ملاوٹ دودھ، مرچ، دالیں، گھی، اور شہد میں پائی جاتی ہے۔ دودھ میں پانی، سرف، مصنوعی گاڑھا پن پیدا کرنے والے کیمیکل اور سستا وے پاؤڈر ملانا ایک عام عمل بن چکا ہے۔ اسی طرح مرچوں میں اینٹوں کا برادہ، لکڑی کا برادہ اور مصنوعی رنگ شامل کیے جاتے ہیں، جو صرف ذائقہ ہی نہیں بلکہ صحت پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔ شہد میں سستا چینی کا شربت ملایا جاتا ہے، جبکہ گھی اور خوردنی تیل میں پلاسٹک میں استعمال ہونے والے خطرناک کیمیکلز شامل کیے جاتے ہیں۔ گوشت کی سطح پر بھی مسائل کم نہیں — بیمار جانور، مردہ مرغیاں اور ناقص فریزن گوشت تک مارکیٹ میں کھلے عام مل رہا ہے۔

ڈاکٹرز اور صحت کے ماہرین اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ملاوٹ شدہ خوراک گردوں، جگر، معدے اور دل کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ بچوں میں بڑھوتری کے مسائل، ہارمونل بے ترتیبی، الرجیز اور کمزور قوتِ مدافعت جیسے مسائل براہ راست ملاوٹ سے جڑے ہوتے ہیں۔ مصنوعی رنگ، کاٹن ڈائی، کم درجے کے کیمیکلز اور سرف جیسے اجزا جسم کے اندر ایسے زہریلے اثرات چھوڑتے ہیں جو وقت کے ساتھ سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔

فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں بظاہر نظر آتی ضرور ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ عملی اقدامات زیادہ تر بڑے شہروں تک محدود رہتے ہیں۔ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں غیر رجسٹرڈ فیکٹریاں، بغیر لیبل کے خوردنی اشیاء اور سستے ملوانے والے نیٹ ورکس اب بھی بغیر روک ٹوک چل رہے ہیں۔ کئی چھاپے پڑتے ہیں، جرمانے ہوتے ہیں، فیکٹریاں سیل ہوتی ہیں، مگر کچھ ہفتوں بعد وہی کاروبار نئے نام سے دوبارہ کھُل جاتا ہے — یہی ہمارا اصل مسئلہ ہے: قانون موجود ہے، مگر اس پر عملدرآمد کمزور ہے۔

ملاوٹ بڑھنے کی بڑی وجہ مہنگائی اور شدید منافع خوری ہے۔ جب مارکیٹ میں اصل چیز مہنگی ہو، تو اس کا نقلی اور سستا متبادل فوری طور پر خریدار ڈھونڈ لیتا ہے، جس سے ملاوٹ کرنے والوں کو مزید حوصلہ ملتا ہے۔ سپلائی چین بھی شفاف نہیں، اس لیے غیر معیاری اشیا بغیر رکاوٹ عام دکاندار تک پہنچ جاتی ہیں۔ دوسری طرف عوامی بے احتیاطی — یعنی بغیر لیبل کی کھلی اشیا خریدنا — بھی اس مسئلے کو بڑھا رہی ہے۔

مارکیٹ کے اندرونی ذرائع بتاتے ہیں کہ ملاوٹ شدہ دودھ، گھی اور مصالحے تیار کرنے والوں کا پورا نیٹ ورک ہوتا ہے جس میں خام مال، سستا کیمیکل، لیبل، ری پیکنگ اور ترسیل تک منظم طریقہ کار شامل ہے۔ ایک لیٹر ملاوٹ شدہ دودھ یا ایک کلو جعلی مرچ کی لاگت اتنی کم پڑتی ہے کہ مافیا کو کئی گنا فائدہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سستی اشیا کی لالچ میں لوگ لاعلمی میں اپنی صحت دائو پر لگا دیتے ہیں۔

صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ کچھ بنیادی ٹیسٹ گھر پر خود کر سکیں۔ دودھ میں چکنائی اور خوشبو دیکھنا، مرچ میں برادہ چیک کرنا، گھی کو ٹھنڈا کر کے اس کی تہہ جانچنا، شہد کا پانی میں حل نہ ہونا — یہ چند آسان طریقے ہیں جن سے ملاوٹ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی فوڈ اتھارٹیز کی ہیلپ لائنز پر شکایت کرنا اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہو چکا ہے اور یہی معاشرتی کردار بھی اس مسئلے کے حل میں مدد دے سکتا ہے۔

آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت فوڈ ٹیسٹنگ لیبز کا دائرہ کار وسیع کرے، چھوٹے شہروں میں موبائل لیبز متعارف کرائے، کھلے مصالحے اور کھلے دودھ کی فروخت پر سخت قوانین بنائے، اور QR کوڈ ٹریکنگ کو عام کرے۔ اسکولوں، کالجز اور گاؤں کی سطح پر آگاہی مہم شروع کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ لوگ یہ سمجھ سکیں کہ سستا نہیں — خالص خریدنا آپ کی صحت اور مستقبل کی حفاظت ہے۔

آخر میں یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ ملاوٹ کا خاتمہ صرف حکومت کا نہیں — یہ معاشرے کا مشترکہ فرض ہے۔ جب تک عوام، میڈیا، فوڈ اتھارٹیز اور تاجروں کا اتحاد نہیں ہوگا، یہ خاموش زہر ہمارے گھروں میں آتا رہے گا۔ محفوظ خوراک صحت مند قوم کی بنیاد ہے، اور یہ بنیاد ہم سب نے مل کر مضبوط کرنی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top