رخشندہ انجم
موسمیاتی تبدیلی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا بحران ہے۔ اس کے اثرات پاکستان میں سب سے زیادہ خواتین پر پڑ رہے ہیں۔ کبھی سیلاب، کبھی خشک سالی، کبھی بجلی اور پانی کی کمی ۔ یہ مسائل صرف ماحولیاتی نہیں، بلکہ گھریلو زندگی، صحت، روزگار اور خوراک کے پورے نظام کو بدل رہے ہیں۔ دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں خواتین کے چیلنج بڑھ رہے ہیں، مگر اس کے باوجود وہ حل کا حصہ بھی بن رہی ہیں۔
پاکستان میں سیلاب اور غیر معمولی بارشوں نے کئی علاقوں میں گھروں، کھیتوں اور روزگار کو شدید نقصان پہنچایا۔ سب سے پہلے گھر خالی کرانے کی ذمہ داری خواتین پر آتی ہے، بچوں اور بزرگوں کو محفوظ جگہ پہنچانا بھی انہی کا کام ہے۔ دوسری طرف خشک سالی اور شدید گرمی نے پانی بھرنے، مویشی سنبھالنے اور کھانا پکانے جیسے روزمرہ کاموں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں خواتین کا موسمیاتی تبدیلی سے براہِ راست متاثر ہونا ایک حقیقت بن چکا ہے۔
دیہی علاقوں میں کئی خواتین نے حالات سے ہار نہیں مانی۔ کہیں وہ بارشی پانی ذخیرہ کرنے کے طریقے اپنا رہی ہیں، کہیں گھریلو باغبانی اور کم پانی والی فصلیں لگا رہی ہیں۔ سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں خاص طور پر خواتین نے مقامی کمیونٹیز کے ساتھ مل کر چھوٹے پیمانے پر ماحول دوست اقدامات شروع کیے ہیں، جو نہ صرف گھروں بلکہ پوری بستیوں کو فائدہ دے رہے ہیں۔
بعض این جی اوز نے بھی خواتین کو تربیت دے کر کلائمٹ ایکشن میں آگے لانے کی کوشش کی ہے۔ پانی کی مینجمنٹ، صاف توانائی، شمسی پینل کا استعمال، اور ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کی ٹریننگ — یہ سب اقدامات اب کئی علاقوں میں مثبت تبدیلی لا رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومتی سطح پر اب بھی بہت کام ہونا باقی ہے۔ پالیسی سازی میں خواتین کی آواز کم سنائی دیتی ہے، جبکہ اصل مسائل وہی بہتر سمجھتی ہیں۔
خواتین کسان اس جدوجہد کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ وہ نہ صرف کھیتوں میں کام کرتی ہیں بلکہ گھر چلانے کی پوری ذمہ داری بھی اٹھاتی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی نے فصلوں کی پیداوار کم کر دی ہے، پانی مہنگا ہو گیا ہے، مویشی بیمار پڑ جاتے ہیں، اور اخراجات بڑھ جاتے ہیں—مگر دیہی خواتین آج بھی اپنے خاندان اور ماحول دونوں کیلئے خاموش جنگ لڑ رہی ہیں۔
مستقبل کی پالیسی صرف تب مؤثر ہوگی جب خواتین کو فیصلہ سازی میں برابر جگہ ملے۔ موسمیاتی منصوبوں میں ان کا تجربہ شامل ہو، انہیں تربیت دی جائے، اور وسائل تک رسائی بہتر بنائی جائے۔ پاکستان کے پاس دنیا کو دکھانے کا موقع ہے کہ جب خواتین کو مضبوط کیا جائے تو وہ ماحول بچانے میں سب سے آگے کھڑی ہوتی ہیں۔





