خواتین کی نئی ڈیجیٹل دنیا

پاکستانی خواتین کی نئی ڈیجیٹل دنیا میں شمولیت، جدید دور میں نئے مواقع

تحریر: عاصمہ رحمٰن

پاکستان میں معاشرتی اور معاشی تبدیلی کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے، جس کی بنیاد ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی پر رکھی جا رہی ہے۔ ماضی میں خواتین کو روایتی معیشت میں شامل ہونے میں بے شمار رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، مگر آج صورتحال بدل رہی ہے۔ گھروں میں محدود رہ جانے والی بے شمار لڑکیاں اور خواتین اب اپنے اسمارٹ فون کے ذریعے نہ صرف عالمی منڈی سے جڑ رہی ہیں بلکہ اپنی ہنر مندی، تعلیم، تجربے اور تخلیقی صلاحیت کو اس انداز سے استعمال کر رہی ہیں جو پہلے کبھی ممکن نہیں تھا۔ یوں پاکستانی خواتین کی نئی ڈیجیٹل دنیا میں شمولیت اختیار کر رہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام نے حالیہ بیان میں اعتماد کے ساتھ کہا کہ پاکستان ’’ڈیجیٹل معیشت کے ذریعے خواتین کے جنڈر گیپ کو کم کر رہا ہے‘‘۔

پاکستان میں یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ اس کے پیچھے معاشرتی ضرورت، عالمی رفتار اور مقامی صلاحیتوں کا امتزاج ہے۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوان آبادی کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان میں بڑی تعداد خواتین کی ہے۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ ملک میں خواتین کی انٹرنیٹ تک رسائی میں نمایاں فرق موجود ہے، جسے ’’ڈیجیٹل گیپ‘‘ کہا جاتا ہے۔ شہروں اور دیہات کے درمیان یہ فرق مزید بڑھ جاتا ہے، جہاں کئی علاقوں میں خواتین کے پاس اسمارٹ فون تک موجود نہیں ہوتا، یا اگر ہو بھی تو اسے استعمال کرنے کی آزادی محدود ہوتی ہے۔ موبائل کی ملکیت کا فرق بھی واضح ہے۔ ایک عالمی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کے پاس ذاتی موبائل فون رکھنے کی شرح کم ہے، جس کے سبب ان کی معاشی شمولیت پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔

ان چیلنجز کے باوجود پاکستان نے گزشتہ چند سال میں نمایاں بہتری دکھائی ہے۔ ڈیجیٹل پاکستان وژن، انٹرنیٹ رسائی کے منصوبے، فائبر نیٹ ورک کی توسیع، اور آن لائن اسکل پروگرامز کے ذریعے خواتین کیلئے نئے مواقع کھولے گئے ہیں۔ وزیرِ مملکت آئی ٹی کے مطابق حکومت نے خصوصی طور پر خواتین کیلئے ڈیجیٹل سکلز پروگرام، ٹیک انکیوبیشن مراکز، اور فری لانسنگ ٹریننگ تیار کی ہے تاکہ وہ گھر بیٹھے معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔ ان پروگراموں میں ہزاروں خواتین نے رجسٹریشن کروائی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی خواتین خود کو نئی ڈیجیٹل معیشت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔

پاکستان میں ٹیکنالوجی اور خواتین کی شمولیت کا ایک انتہائی دلچسپ اور علامتی واقعہ حال ہی میں سامنے آیا، جب ’’اے۔آئی فیشن شو‘‘ منعقد کیا گیا۔ یہ شو خاص طور پر اس وجہ سے منفرد تھا کہ اس میں خواتین آرٹسٹنز کے تیار کردہ ڈیزائنز کو ’’مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈلز‘‘ کے ذریعے پیش کیا گیا۔ اس تجربے نے فیشن انڈسٹری میں ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے، جہاں خواتین اپنے ہنر کو بغیر بڑے اخراجات کے عالمی سطح تک پہنچا سکتی ہیں۔ اے۔آئی ماڈلز کی مدد سے یہ فیشن شو نہ صرف انتہائی سستا ثابت ہوا بلکہ اس نے اس خیال کو تقویت دی کہ ٹیکنالوجی خواتین کیلئے مواقع کو کم نہیں بلکہ بڑھا سکتی ہے۔ اس شو کے ذریعے نوجوان لڑکیوں کو یہ پیغام ملا کہ مستقبل کی فیشن، ڈیزائن، ہنر اور آرٹ کی دنیا مصنوعی ذہانت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، اور اگر وہ آج اس سفر میں شامل ہو جائیں تو کل کی عالمی فیشن منڈی ان کی ہوسکتی ہے۔

یہ فیشن شو دراصل اس بڑی تبدیلی کی علامت ہے جو خواتین اور ٹیکنالوجی کے تعلق کو مضبوط کر رہی ہے۔ اس سے پہلے فیشن ڈیزائنر بننے کیلئے بڑے مالی وسائل، برانڈ نیٹ ورک اور پیشہ ور ماڈلز کی ضرورت ہوتی تھی، لیکن اب مصنوعی ذہانت نے وہ دروازے کھول دیئے ہیں جن کا تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ خواتین اب اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو صرف موبائل فون اور انٹرنیٹ کی مدد سے ایسی جگہ پہنچا سکتی ہیں جہاں پہلے رسائی ناممکن دکھائی دیتی تھی۔

ڈیجیٹل معیشت خواتین کیلئے عملی مواقعوں سے بھری ہوئی ہے۔ آن لائن فری لانسنگ کے ذریعے بہت سی پاکستانی خواتین گھر بیٹھے ترجمہ، تحریر، ڈیزائن، ویڈیو ایڈیٹنگ، ڈیجیٹل تشہیر اور ورچوئل اسسٹنٹ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ ای۔کامرس نے انہیں یہ سہولت بھی دی ہے کہ وہ کوئی چھوٹا کاروبار شروع کریں، مثلاً کپڑوں کا بیچنا، جیولری، ہینڈ میڈ آرٹ، کاسمیٹکس یا گھریلو مصنوعات کی فروخت، اور انہیں گھر کے دروازے سے باہر قدم رکھے بغیر پوری دنیا کا خریدار مل سکتا ہے۔ متعدد خواتین ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور فیس بک کے ذریعے اپنی ہنرمندی دکھا کر ماہانہ ہزاروں روپے کما رہی ہیں۔ کچھ خواتین نے کلاؤڈ کچن جیسا ماڈرن گھرانہ کاروبار شروع کیا ہے جس میں وہ صرف موبائل ایپلی کیشنز کی مدد سے کھانا تیار کر کے ڈیلیوری کمپنیوں کے ذریعے فروخت کرتی ہیں۔ یہ وہ مواقع ہیں جو روایتی معیشت کبھی فراہم نہیں کرتی تھی۔

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے رجحان نے بھی خواتین کیلئے نئی راہیں کھولی ہیں۔ آج بہت سی نوجوان لڑکیاں اے۔آئی کی مدد سے ڈیزائن بنا رہی ہیں، آڈیو اور ویڈیو تیار کر رہی ہیں، بلاگنگ کر رہی ہیں، حتیٰ کہ اے۔آئی پر مبنی چھوٹے کاروبار بھی چلا رہی ہیں۔ گھر میں بیٹھا ہوا ایک کمپیوٹر اب ایک ’’ڈیجیٹل دفتر‘‘ بن چکا ہے جس میں کسی بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں۔

البتہ اس روشن تصویر کے ساتھ چند سنجیدہ چیلنج بھی موجود ہیں۔ ملک میں خواتین کیلئے آن لائن ہراسگی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے بہت سی نوجوان لڑکیاں سوشل میڈیا یا ای۔کامرس پر کھل کر کام نہیں کر پاتیں۔ اسی طرح بینک اکاؤنٹ کھلوانے، ڈیجیٹل ادائیگی استعمال کرنے، آن لائن مالیاتی لین دین سمجھنے اور سائبر سیکورٹی کے حوالے سے بھی رکاوٹیں درپیش ہیں۔ کچھ علاقوں میں انٹرنیٹ کا معیار اتنا کمزور ہے کہ خواتین کیلئے باقاعدہ آن لائن روزگار ممکن ہی نہیں ہوتا۔ ادھر کئی گھرانوں میں اب بھی خواتین کے موبائل استعمال کرنے کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا، اور یہ روایتی رویہ ان کی ڈیجیٹل دنیا تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اس کے باوجود حقیقی کہانیاں امید دلاتی ہیں۔ پنجاب کے ایک گاؤں کی لڑکی، جس نے کبھی شہر کا چہرہ تک نہیں دیکھا تھا، آج فری لانسنگ کے ذریعے ڈیزائننگ کا کام کر کے اپنے گھر کا خرچ پورا کر رہی ہے۔ کراچی کی ایک خاتون نے انسٹاگرام پر اپنا آن لائن اسٹور بنایا اور چند ہی مہینوں میں اس کا کاروبار اتنا بڑھ گیا کہ وہ اب اپنے شوہر کے ساتھ مل کر اسے چھوٹا برانڈ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک نوجوان آرٹسٹ نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسے فیشن ڈیزائن تیار کیے جو یورپی منڈی میں مقبول ہوئے اور اس نے صرف گھر بیٹھے اس کامیابی کو حاصل کیا۔

پاکستان میں خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت کا مستقبل روشن ہے، مگر اسے پائیدار بنانے کے لیے چند بنیادی اقدامات ضروری ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ ہر ضلع میں خواتین کیلئے ’’ٹیک لیبز‘‘ قائم کرے جہاں وہ کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت کے عملی کورس مفت سیکھ سکیں۔ موبائل فون کی قیمتیں کم کرنے کیلئے مخصوص سبسڈی دی جا سکتی ہے۔ آن لائن ہراسگی کے خلاف سخت اور تیز نظام کی ضرورت ہے تاکہ خواتین ڈیجیٹل دنیا میں خود کو محفوظ محسوس کریں۔ مالی شمولیت کیلئے آسان موبائل والیٹس کو فروغ دینا بھی ناگزیر ہے۔ اسی طرح میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ کامیاب خواتین کو بطور ’’ڈیجیٹل رول ماڈل‘‘ پیش کرے تاکہ نئی نسل میں اعتماد بڑھے۔

آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ ڈیجیٹل معیشت پاکستان کی خواتین کیلئے امید کی ایک تازہ کرن بن کر ابھری ہے۔ چاہے وہ اے۔آئی فیشن شو ہو، آن لائن کاروبار ہو، یا فری لانسنگ، حقیقت یہی ہے کہ ٹیکنالوجی نے خواتین کے لیے وہ راستے کھول دیئے ہیں جو روایتی معیشت میں بند تھے۔ آج کی پاکستانی خاتون پہلے سے زیادہ بااختیار، باشعور اور دنیا کے ساتھ جڑی ہوئی ہے—اور یہ سفر ابھی شروع ہوا ہے۔ مستقبل پاکستان کا نہیں، بلکہ خواتین کا ڈیجیٹل مستقبل ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top