ٹیکسٹائل انڈسٹری نے رواں مالی سال کے آغاز میں ہی غیر معمولی رفتار پکڑ لی ہے، اور صرف چار ماہ میں پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات نے وہ سنگ میل عبور کر لیا ہے جو پہلے کبھی ریکارڈ نہیں ہوا۔ تازہ اعداد و شمار معیشت کے اہم شعبے میں مستحکم بحالی اور عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مالی سال 2025-26 کے پہلے چار ماہ میں پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات 6.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ملک کی تاریخ میں کسی بھی چار ماہ کے لیے سب سے زیادہ برآمدی حجم ہے۔ یہ اعداد و شمار عارف حبیب لمیٹڈ کی نئی رپورٹ میں جاری کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر نے اس ریکارڈ کارکردگی میں بنیادی کردار ادا کیا۔ نِٹ ویئر کی برآمدات 1.9 ارب ڈالر جبکہ ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات 1.4 ارب ڈالر رہیں، جو دونوں شعبوں کے لیے بھی نئی بلند ترین سطح ہے۔
ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافے کی اہم وجوہات میں عالمی طلب میں بہتری، ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی مضبوط کارکردگی اور روپے کے استحکام کو نمایاں قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی کاروبار دوست پالیسیاں، پالیسی تسلسل، صنعتی سہولت کاری اور برآمدی شعبوں کے لیے سازگار حکومتی اقدامات نے اس پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا۔
توانائی لاگت میں کمی، کاروباری اعتماد کی بحالی اور برآمدی سیکٹر کے لیے سہولتی اقدامات نے مجموعی کاروباری ماحول کو مزید بہتر بنایا ہے۔ حکومت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ برآمدات میں اضافے اور پاکستانی ٹیکسٹائل کی عالمی مسابقت بڑھانے کے لیے اصلاحات کا سلسلہ جاری رہے گا۔









