ایڈز کی بڑھتی وبا

پاکستان میں ایڈز کی بڑھتی وبا ، اصل وجوہات کیا ہیں؟

تحریر : ابو قاسم

دنیا بھر میں یکم دسمبر کو ایڈز سے بچاؤ کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہر ملک کو یاد دلاتا ہے کہ ایچ آئی وی صرف ایک وائرس نہیں، بلکہ صحت، سماج اور ریاستی نظام کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔ پاکستان کے لیے یہ دن مزید حساس اس لیے ہے کہ عالمی ادارہ صحت (WHO)، ایڈز کے خلاف اقوامِ متحدہ کے پروگرام (UNAIDS) اور وزارتِ صحت پاکستان مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ ملک میں اس وائرس کا پھیلاؤ خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے۔ پاکستان اب مشرقِ وسطیٰ و جنوبی ایشیا کے ان ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں ایچ آئی وی انفیکشنز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، ایڈز کی بڑھتی وبا انتہائی تشویشناک ہے۔ یہ صورتحال محض اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی صحت اور مستقبل کا سوال بن چکی ہے۔

80٪ متاثرین لاعلم کیوں؟

پاکستان میں اس وقت تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، لیکن اصل خطرہ یہ ہے کہ ان میں سے تقریباً اسی فیصد افراد اپنی بیماری سے لاعلم ہیں۔ بیماری کا پھیلاؤ خاموش ہے، اور یہی خاموشی معاشرے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

گزشتہ پندرہ برسوں میں اس مرض کے پھیلاؤ میں دو سو فیصد اضافہ بذاتِ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ کہیں نہ کہیں ہماری اجتماعی حکمتِ عملی میں بڑی خامیاں موجود ہیں۔ 2010 میں نئے کیسز کی تعداد سولہ ہزار تھی، جو 2024 میں بڑھ کر اڑتالیس ہزار سے تجاوز کر گئی۔ یہ اضافہ محض بداحتیاطی یا لاعلمی کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کا خلاصہ ہے جس میں صحت کے ضابطے کمزور ہیں، آگاہی ناکافی ہے، اور امتیازی رویّے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کر دیتے ہیں۔

وائرس مخصوص گروہوں تک محدود نہیں رہا

ایچ آئی وی کا پھیلاؤ اب پہلے جیسے مخصوص گروپوں تک محدود نہیں رہا۔ غیر محفوظ خون کی منتقلی، غیر محفوظ انجیکشنز، ماں سے بچے تک منتقلی، ناقص طبی ادارے، اور سماجی رکاوٹیں — ان سب نے مل کر بچے، نوجوان، خواتین اور عام گھرانوں کو بھی اس مسئلے کا حصہ بنا دیا ہے۔ کئی علاقوں میں ایسے واقعات سامنے آئے جہاں بچے صرف انجیکشن کے غلط استعمال کے باعث متاثر ہوئے۔ کچھ علاقوں میں حاملہ خواتین تشخیص نہ ہونے کے باعث لاشعوری طور پر وائرس اپنے بچوں تک منتقل کرتی رہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف طبی لحاظ سے بلکہ اخلاقی و سماجی اعتبار سے بھی انتہائی تشویشناک ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بانجھ پن عالمی صحت کا چیلنج ، ڈبلیو ایچ او کی پہلی جامع گائیڈ لائن جاری

پاکستان کے مختلف شہروں، خاص طور پر سندھ اور پنجاب کے کچھ دیہی علاقوں میں ایچ آئی وی کے وہ کیسز بھی رپورٹ ہوئے جن کا سبب نشہ آور انجیکشن نہیں، بلکہ عام طبی مراکز میں سرنجوں کا بار بار استعمال تھا۔ بعض جگہوں پر لیبارٹریوں اور کلینکس میں خون کی اسکریننگ نہ ہونے کے برابر تھی۔ یہ وہ خامیاں ہیں جو کسی بھی قوم کے صحت کے نظام کا کمزور ترین رخ ظاہر کرتی ہیں۔

ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کی ایک بڑی وجہ معاشرتی لاعلمی بھی ہے۔ بدقسمتی سے معاشرے کا ایک بڑا طبقہ سمجھتا ہے کہ یہ مرض صرف مخصوص طرزِ زندگی رکھنے والے افراد کو ہوتا ہے۔ یہی غلط فہمی اس مرض کو عام گھروں تک پہنچانے میں سب سے زیادہ مددگار ثابت ہوتی ہے۔ جب لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ “ہمیں یہ نہیں ہو سکتا”، وہ ٹیسٹ نہیں کرواتے، احتیاط نہیں کرتے، اور غیر تشخیص شدہ کیسز وائرس کے پھیلاؤ کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

سماجی لاعلمی اور غلط فہمیاں

پاکستان میں اس مرض سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ پچھلے چند برسوں میں وہ واقعات سامنے آئے جن میں بچے صرف ایک غلط سرنج کے استعمال سے متاثر ہوئے۔ حاملہ خواتین میں صرف چودہ فیصد کو علاج تک رسائی حاصل ہے، جو ناقابلِ قبول حد تک کم ہے۔ جب ایک ماں کو علاج نہ ملے تو وائرس کا پھیلاؤ اس کے بچے تک منتقل ہو جانا ایک تلخ حقیقت ہے۔ انہیں بروقت علاج نہ ملے تو یہ بچے زندگی بھر کے لیے جسمانی و ذہنی مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔

پاکستان میں صحت کی بنیادی سہولیات بھی اس صورتحال کی بڑی وجہ ہیں۔ دیہی علاقوں میں طبی عملے کی تربیت ناکافی ہے۔ انفیکشن کنٹرول کے ضابطے کاغذوں میں تو موجود ہیں مگر عملدرآمد بہت کم ہے۔ ایک سرنج کا بار بار استعمال، طبی آلات کی غیر معیاری اسٹرلائزیشن، سرکاری اور نجی ہسپتالوں کی کمزور نگرانی، اور غیر رجسٹرڈ میڈیکل ٹیکنیشنز کا بڑھتا ہوا دائرہ — یہ سب عناصر ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کا ایندھن بن رہے ہیں۔

علاج موجود، مگر مریض کیوں نہیں پہنچتے؟

تشخیص اور علاج کی صورتحال کچھ بہتر ضرور ہوئی ہے۔ پاکستان میں اس وقت تقریباً 96 ART مراکز کام کر رہے ہیں جہاں تقریباً 58 ہزار مریض علاج حاصل کر رہے ہیں۔ لیکن اگر ملک میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہیں تو یہ تعداد بہت کم ہے۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ لوگ ٹیسٹ ہی نہیں کرواتے یا پھر علاج کے خوف، شرمندگی یا سماجی دباؤ کے تحت علاج شروع نہیں کرتے۔ کئی افراد یہ سمجھتے ہیں کہ علاج شروع کرنے سے ان پر “لیبل” لگ جائے گا، اور معاشرہ انہیں الگ تھلگ کر دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ stigma، امتیاز اور خوف اس وبا کے پھیلاؤ میں اتنا ہی کردار ادا کرتے ہیں جتنا طبی کوتاہی۔

معاشرتی رویے اس مسئلے کو پیچیدہ ترین شکل دے رہے ہیں۔ اکثر مریض اپنے گھر والوں کو بتانے سے گھبراتے ہیں۔ بعض خاندان مریض کو گھر سے الگ کر دیتے ہیں۔ کچھ علاقوں میں آج بھی یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ بیماری بدکرداری کا نتیجہ ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایچ آئی وی انجیکشن، خون، ماں سے بچے، اور جنسی تعلقات سمیت مختلف ذرائع سے منتقل ہو سکتا ہے۔ یہ محض کردار کا مسئلہ نہیں بلکہ صحت کا مسئلہ ہے۔ معاشرے کو ضرورت ہے کہ اس وائرس سے متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردی کا رویہ اپنائے۔ اسی رویے کی بدولت متاثرہ افراد تشخیص اور علاج کے سفر میں بغیر خوف کے آگے بڑھ سکتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ آگے کا راستہ کیا ہے؟ کیا ہم اس چیلنج کو سنجیدگی سے لے کر اپنی آئندہ نسلوں کو محفوظ بنا سکتے ہیں؟ ماہرینِ صحت کے مطابق جواب “ہاں” میں ہے، مگر ایک شرط کے ساتھ — کہ ہم اجتماعی سطح پر فوری اقدامات کریں۔

آگاہی اور میڈیا کی ذمہ داری

پاکستان کو سب سے پہلے خون کی اسکریننگ کے نظام کو فول پروف بنانا ہوگا۔ جب تک غیر رجسٹرڈ بلڈ بینکس بند نہیں کیے جاتے، اور خون کی اسکریننگ کے سخت ضوابط ہر سطح پر نافذ نہیں ہوتے، وائرس کا پھیلاؤ روکنا ممکن نہیں۔ اسی طرح ملک بھر میں انجیکشن کے استعمال سے متعلق سخت قوانین اور انفیکشن کنٹرول پروگرام شروع کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ ہر طبی مرکز میں صرف ایک بار استعمال ہونے والی سرنج لازمی قرار دی جائے۔

صحت کے شعبے میں عملی تربیت ناگزیر ہے۔ ڈاکٹرز، نرسز، لیبارٹری اسٹاف، اور پیرامیڈکس کو جدید انفیکشن کنٹرول سسٹم کی تربیت دینا ہوگی۔ حکومت کو چاہیے کہ HIV ٹیسٹ کو عام عوام کے لیے آسان، قابلِ رسائی اور مکمل طور پر مفت کرے، تاکہ لوگ بغیر کسی خوف کے ٹیسٹ کروا سکیں۔

ماں سے بچے میں منتقلی روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر حاملہ خاتون کا HIV ٹیسٹ لازمی قرار دیا جائے۔ اس قدم سے ہزاروں بچے مستقبل میں ایچ آئی وی سے پاک رہ سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ART علاج کے ذریعے حاملہ خواتین اپنے بچوں کو وائرس سے محفوظ کر سکتی ہیں، بشرطیکہ انہیں بروقت علاج میسر ہو۔

معلومات اور آگاہی اس مسئلے کا سب سے طاقتور علاج ہیں۔ اگر میڈیا، مساجد، تعلیمی ادارے، اور کمیونٹی لیڈرز مل کر بیداری پیدا کریں، تو معاشرہ stigma کو توڑ سکتا ہے۔ انسانی زندگیوں کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایچ آئی وی کو جرم قرار نہ دیں بلکہ علاج طلب کرنے والوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔

کیا پاکستان ایڈز کو قابو کر سکتا ہے؟

بین الاقوامی اداروں کے مطابق اگر پاکستان آئندہ چار سے پانچ برسوں میں سخت اور منظم اقدامات اختیار کرے، تو 2030 تک ایڈز کو عوامی صحت کے لیے خطرہ نہ رہنے کے برابر کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک مشکل ہدف ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ پاکستان نے پولیو، خسرہ اور دیگر بیماریوں کے خلاف کئی کامیاب مہمات چلائی ہیں۔ اگر ریاست، عوام اور ادارے متحد ہو جائیں تو ایچ آئی وی کا پھیلاؤ بھی برقرار نہیں رہ سکتا۔

آخر میں یہی کہوں گا کہ ایڈز صرف ایک وائرس نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے جس میں ہم اپنے سماجی، طبی اور اخلاقی ڈھانچے کی کمزوریاں دیکھ سکتے ہیں۔ یہ بیماری ہمیں بتاتی ہے کہ احتیاط، علم، ہمدردی اور اجتماعی ذمہ داری کے بغیر کوئی معاشرہ محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اگر ہم آج فیصلہ کر لیں کہ ہم ہر سطح پر اس وبا کے خلاف جنگ لڑیں گے، تو آنے والی نسلیں ایک محفوظ پاکستان میں سانس لے سکیں گی۔

یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں، بلکہ اقدام کا ہے۔ ہمیں اپنی، اپنے خاندان کی، اور اپنے ملک کی صحت کے لیے متحد ہونا ہوگا۔ ایڈز کا خاتمہ ممکن ہے، مگر شرط یہ ہے کہ ہم سب اپنا کردار ادا کریں — بغیر خوف، بغیر امتیاز، اور مکمل انسانیت کے ساتھ۔

مزید تازہ ترین خبریں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top